’ہم تو ویسے ہی درود والے لوگ ہیں بارود والے نہیں‘

قومی اسمبلی
    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی قومی اسمبلی کے کئی اراکین نے جن پر انٹیلی جینس بیورو( آئی بی) سے منسوب ایک فہرست میں انتہا پسندوں سے تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اس فہرست کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں انھیں آئی بی کے حکام نے اب تک اعتماد میں نہیں لیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ پر آئی بی کی ایک مبینہ فہرست گردش کرتی دکھائی دی تھی جس میں 37 حکومتی اراکین پارلیمان پر شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کا الزام کیا گیا تھا۔

آئی بی اور حکومت پہلے ہی اس فہرست کو جعلی قرار دے چکی ہیں۔

اس حوالے سے فہرست میں شامل رکن پارلیمان سید عمران احمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ فہرست ہے ہی جھوٹی اور دوسری بات یہ کہ ہم تو ویسے ہی درود والے لوگ ہیں بارود والے نہیں۔‘

سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ گذشتہ روز ایسی خبر ملی تھی کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کی آئی بی چیف کے ساتھ کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کے ساتھ نہ تو کوئی ملاقات کی گئی اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا گیا۔

اس حوالے سے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر یہ فہرست جعلی بھی ہے تو انٹیلی جنس بیورو کو خود اس فہرست کو منظر عام پر لانے والے ٹی وی چینل اور اینکر پرسن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

سید عمران احمد شاہ

’ایک شخص ٹی وی پر بیٹھ کر یہ فہرست دکھا رہا ہے تو اب وہ جعلی ہے یا نہیں یہ دیکھنا تو آئی بی کی ذمہ داری ہے۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو قومی اسبملی کے اجلاس کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین صوبائی ہم آہنگی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے اس فہرست کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے اس طرح کی کارروائی نہیں کی جیسی کی جانی چاہیے تھی۔

ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس بیورو کی طرف سے اس مبینہ فہرست پر پیمرا کو لکھا جانے والا خط کافی نہیں ہے بلکہ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہییں کہ اس فہرست کو سامنے لانے کے ذمہ داران کون ہیں۔

اس ہی فہرست میں شامل ایک اور رکن پارلیمان سردار محمد عرفان ڈوگر نے بھی آئی بی چیف کے ساتھ ملاقات کی خبر سے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب فہرست ہے ہی جعلی تو پھر ملاقات کیسی۔

سردار محمد عرفان ڈوگر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سردار محمد عرفان ڈوگر

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس بارے میں آئی بی سے کسی قسم کی کوئی رپورٹ تک طلب نہیں کی کیونکہ یہ معاملہ ہے ہی جھوٹا۔‘

جبکہ سید عمران احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے دوران وزیراعظم پاکستان اور سپیکر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور فی الحال اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ان 37 ناموں کا تعین کس نے اور کس بنا پر کیا، ناموں کا انتخاب کیسے کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف مسلم لیگ ن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ فہرست کی شامل زیادہ تر اراکین پارلیمان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔