کوئٹہ میں پولیس ایک بار پھر نشانے پر، ڈی آئی جی بم دھماکے میں ہلاک
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ڈی آئی جی پولیس سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح شہر کی ایئر پورٹ روڑ پر واقع عسکری پارک کے قریب ڈی آئی جی موٹر ٹرانسپورٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکشن حامد شکیل کی گاڑی کو اس وقت بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جا رہے تھے۔
نامہ مگار محمد کاظم کے مطابق حکومت بلوچستان کے ترجمان انور کاکڑ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ڈی جی آئی حامد شکیل، ان کی گاڑی کے ڈرائیور اور ایک اے ایس آئی ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں چار عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ڈی آئی جی حامد شکیل کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم ابھی تک دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا اور اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں۔حامد شکیل کون ہیں؟
حامد شکیل کون تھے

،تصویر کا ذریعہPolice
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس حامد شکیل کا شمار صوبے کے فرض شناس اور محنتی افسروں میں ہوتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں چھ ماہ قبل ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اور وہ بطور ڈی آئی جی موٹر ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن فرائض سرانجام دیے رہے تھے۔
حامد شکیل بلوچستان کے شہر خضدار میں 1960میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد حامد شکیل بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بلوچستان پولیس میں ڈی ایس پی تعینات ہوئے اور اس عہدے پر ان کی پہلی تعیناتی ڈیرہ بگٹی میں ہوئی تھی۔
کوئٹہ کے ایس ایس پی ٹریفک کے طور پر انھوں نے شہر میں ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے۔
انھوں نے پسماندگان میں ایک بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔
حامد شکیل بلوچستان میں شورش کے بعد سے پر تشدد واقعے میں ہلاک ہونے والے ڈی آئی جی رینک کے دوسرے افسر ہیں۔
خیال رہے کہ کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران کوئٹہ سمیت صوبے میں پولیس اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل روں برس 18 اکتوبر کو کوئٹہ میں درخشاں کے علاقے میں ایک خود کش حملے میں پولیس کی کمانڈو فورس کے 6 اہلکار ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
رواں سال پولیس کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک ڈی آئی جی رینک کے ایک اور ایس پی رینک کے دو افسروں سمیت 20سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔























