’لاہور حملہ فوجی آپریشن کا ردعمل‘

رحمان ملک
،تصویر کا کیپشنتمام شرپسند اور عسکریت پسند ہتھیار ڈال دیں کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں: رحمان ملک
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے لاہور میں ہوئےخود کش بم دھماکے کے بارے میں کہا ہے کہ فاٹا اور سوات میں فوجی آپریشن کا تھوڑا بہت رد عمل ضرور سامنے آئے گا۔

بدھ کے روز کراچی میں ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح فاٹا اور سوات میں آپریشن جاری ہے اس کا تھوڑا بہت رد عمل ضرور سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور جب انہیں سوات اور فاٹا میں شکست ہوئی تو انہوں نے شہروں کی طرف رخ کیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ’بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کہ اگر آپریشن بند نہیں ہوگا تو شہروں میں دھماکے کریں گے۔‘

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سوات اور مالا کنڈ میں لڑی جانے والی لڑائی ملک کے بقا کی جنگ ہے۔ حکومت کے پاس دو راستے تھے یا تو ملک شرپسندوں کے حوالے کردیں یا آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے ان سے لڑائی کرتے۔ حکومت اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے انہیں مار بھگائیں گے۔

انہوں نے شدت پسندوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام شرپسند اور عسکریت پسند ہتھیار ڈال دیں کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اب عسکریت پسندوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے، یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری شرپسند کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔’ کتنے مذاکرات کریں ہم نے انہیں نطام عدل بھی دیا اگر مذاکرات کی صورت میں وہ متوازی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

واضح رہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو دوبارہ مذاکرات کی پیش کش کی تھی ۔

رحمان ملک نے لاہور دھماکے کی تحقیقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی چند گھنٹے ہوئے ہیں ان کے پاس کوئی آلہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ سب معلومات حاصل کرلیں مگر وہ یقین دلاتے ہیں تک تمام ملزموں کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے تک ہر روز تین چار بم دھماکے ہوتے تھے مگر موجودہ حکومت کی حکمت عملی کے تحت ان میں واضح کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند دن کی بات ہے سب ٹھیک ہوجائے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سوات اور مالا کنڈ کے لوگ پاکستانی ہیں اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ جو لوگ بیدخل ہو رہے ہیں حکومت انہیں ایک حکمت عملی کے تحت لے کر چل رہی ہے۔ مردان اور صوابی میں بھی کیمپ لگائے گئے ہیں جبکہ کراچی میں بھی سپر ہائی وے پر کیمپ لگایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں لینڈ مافیا سے زمین خالی کرائی جائے گی اور اس سلسلے میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ان کے ساتھ موجود متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما ڈاکٹر فارق ستار نے بتایا کہ رحمان ملک کے ساتھ ان کی جمہوریت کے فروغ اور کراچی میں امن امان کے حوالے سےمذاکرات ہوئے ہیں۔