برابری کا درجہ چاہیئے: اچکزئی

محمود خان اچکزئی
،تصویر کا کیپشنعارضی طور پر بلوچ اور پشتون دو بھائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں:محمود خان اچکزئی
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پشتون بلوچستان میں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر کبھی نہیں رہیں گے اور اگر اسے برابری کا درجہ نہ دیا گیا تو وہ علیحدہ صوبے کی بحالی اور یا پھر پشتون صوبے سے الحاق کے لیے بھر پور تحریک چلائیں گے۔

محمود خان اچکزئی سابق دور میں قائم ہونے والے سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم اور اپنے آپ کو محکوم کہلووانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے بھی سربراہ ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے پارلیمان کی کمیٹی بلوچستان میں پشتونوں کو برابری کا درجہ دے گی جیسے اگر وزیر اعلی بلوچ ہوگا تو گورنر پٹھان ہونا چاہیے اور ایسا ماضی میں ہوتا آیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچوں اور پشتونوں کو ایک صوبے میں مدغم کیا گیا تھا حالانکہ پہلے پشتونوں کا اپنا ایک چیف کمشنر کا صوبہ تھا جسے ختم کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پشتون ، بلوچستان میں مستقل طور پر نہ کبھی رہنے کے لیے تیار تھے نہ ہیں اور نہ ہوں گے لیکن ہاں عارضی طور پر بلوچ اور پشتون دو بھائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں جہاں دونوں کی غمی اور خوشی سب کچھ برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو وہ پھر برابری کے درجے کی تحریک، اپنے لیے علیحدہ صوبہ قائم کرنے اور یا موجودہ پشتون صوبے سے الحاق کے لیے زبردست تحریک چلا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں اب ایکنک نے بلوچستان کے لیے سینتیس ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں سے صرف ایک ارب روپے پشتون علاقوں کے لیے جبکہ باقی بلوچ علاقوں کے لیے رکھےگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہیے تھا کہ یہ رقم برابری کی بنیاد پر مختص کی جاتی تو پشتون علاقوں کا پانی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی پشتونوں کو برابری کا درجہ دیا جائے۔

محمود خان نے کہا کہ مستقل حل کے طور پر پشتونوں کا یہ اپنا حق ہے کہ وہ چاہے چیف کمشنر کے صوبے کو چیف گورنر کے صوبے کا درجہ دلانے کے لیے تحریک چلائے اور یا پشتون صوبے کے ساتھ مدغم ہونے کا اعلان کریں اور اس بارے میں پشتون ہی خود کوئی فیصلہ کریں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ پونم اور اے پی ڈی ایم اب کہاں ہیں تو انہوں نے کہا کہ پونم بنیادی طور پر قوموں کی اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک تحریک تھی جو بعد میں پاکستان میں جمہوری تحریک کا حصہ بنی ۔ محمود خان نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کی تحریک کے نتیجے میں موجود جمہوری حکومت قائم ہے ۔

محمود خان نے کہا کہ انھیں پونم اور اے پی ڈی ایم پر فخر ہے اور ’اگر کوئی کہتا ہے کہ آئین ساز اسمبلی کا انتخاب اگر مشکل ہے تو پھر بسم اللہ کریں تمام دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنما اسی پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ جاتے ہیں اور تمام صوبوں کو ان کے وسائل پر اختیار دیا جائے اور قوموں کے حقوق برابری کی بنیاد پر تسلیم کیے جائے۔ بہاولپور میں سرائیکی صوبہ قائم کیا جائے اور ایسا پیکج تشکیل دیا جائے جس پر تمام قومیں اور رہنما متفق ہوں اور پھر اس پیکج کو موجودہ اسمبلیوں میں پیش کرکے منظور کیا جائے۔ اور یہ ترامیم انیس سو تہتر کے آئین میں کی جا سکتی ہیں تاکہ پاکستان کو متحد رکھا جا سکے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پاکستان قائم رکھنے کی خواہش ہو تو اس کا واحد حل جمہوری پاکستان کی تشکیل ہے وگرنہ جہالت اور ضد سے ہم اس ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے۔