بوکھلاہٹ کا عالم ارے توبہ ۔۔۔

- مصنف, ماہ پارہ صفدر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
- وقت اشاعت
بی بی سی اردو سروس میں آنے سے پہلے ماہ پارہ صفدر پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر نیوز پریزینٹر کی حیثیت سے وابستہ تھی۔ زندگی کے اس ابتدائی سفر سے وابستہ بہت سی یادیں ان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر انہیں یاداشتوں پر مبنی سلسلہ شائع کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے کی پانچویں کڑی:
ایک دن میں فلم کے ساتھ خبر ( جیسے اب فٹیج کہا جاتا ہے) کی ریہرسل کے لیے ایڈیٹنگ روم میں داخل ہوئی تو فلم ایڈٹ کے دوران بار بار یہ آواز سنائی دی۔ ’یہ ’ہل‘ کی تصویر کٹو جی کٹو( کاٹوجی کاٹو) ’آواز بھی گھٹ کر یار‘۔ ہمارے قارئین بخوبی سمجھتے ہیں کہ کسی بھی خبری واقعے یا تقریب کی خاصی طویل فلم شوٹ کرلی جاتی ہے، پھر ایڈیٹنگ روم میں اس طویل کالے فیتے نما ریل میں سے تحریر شدہ خبر کے مطابق کچھ حصے منتخب کرلیے جاتے تھے۔ خیر اب تو ڈیجیٹل کیمرے آچکے ہیں ان میں کوئی ریل نہیں ہوتی تاہم ایڈیٹنگ اب بھی ہوتی ہے۔
عام حالات میں ایڈیٹنگ کرنا یا خبر کو مختصر کرنا یا ادارتی نکتہ نظر سے خبر کے کچھ حصے حذف کرنا ذرائع ابلاغ کے معمولات میں شامل ہے۔ ویسے بھی صحافت کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ ’وین ان ڈاؤٹ کٹ اِٹ آؤٹ‘ یعنی اگر کسی خبر کے بارے میں ذرا بھی شک ہو تواسے نکال دو۔ مگر پی ٹی وی لاہور کے ایڈیٹنگ روم میں معاملہ کچھ اور تھا۔ یہاں یہ ایڈیٹنگ حکام بالا کی ہدایات کے مطابق کی جارہی تھی۔
مگر یہ معاملہ جاننے کے لیے آپ کو پہلے میرے ذہن کے پردے پر چلنے والی وہ فلم دیکھنی ہوگی جسے دیکھنے کے بعد آپ کو ایڈیٹنگ روم کا منظر بھی بلکل صاف نظر آنے لگے گا۔
ہوا یوں کہ سات جنوری سن ستتر کی ایک سرد شام کو ملک میں آئندہ انتخابات کا اعلان کردیا گیا۔ جس کے مطابق قومی اسبملی کے لیے ووٹنگ سات مارچ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے دس مارچ کو ہونا قرار پائی۔ یہ اعلان کوئی ایسا اچانک بھی نہیں تھا۔ انتخابات کے بارے میں کئی ہفتوں سے پیش گوئی کی جا رہی تھی۔ نیوز روم میں اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی تھیں’ کہ بھٹو صاحب کو یہ یقین ہے یا انھیں دلوا دیا گیا ہے کہ حزب اختلاف اس قدر منتشر ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس وقت ملک گیر سطح پر پیپلز پارٹی کا مقابلہ نہیں کرسکتی، وغیرہ‘۔
مگر یہ وہ تبصرے تھے جو پس پردہ ہی رہتے تھے۔ جو کچھ نشر ہوتا تھا وہ یہ کہ انتخابات تو دراصل سن تہتر کے ائین کے مطابق اکتوبر اٹھہتر میں ہونے تھے مگر یہ بھٹو کی جمہوریت پسندی ہے کہ انھوں نےقبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا وغیرہ، وغیرہ (حالانکہ یہ انتخابات کوئی سات برس بعد ہورہے تھے)۔
یہ الفاظ پڑھتے پڑھتے لگ بھگ مجھے زبانی یاد ہوچکے تھے کہ بھٹو جیسا زیرک، معتبر اور سیاسی قد و قامت کا کوئی رہنما پاکستان میں تو کیا پورے عالم اسلام میں نظر نہیں آتا۔
لیکن انتخابات کا اعلان ہوتے ہی کوئی نو مختلف پارٹیوں نے پاکستان نیشنل الائینس پی این اے کے نام سے انتخابی اتحاد قائم کرلیا، جس میں نواب زادہ نصراللہ خان کی جمہوری وطن، اصغر خان کی تحریک استقلال کے علاوہ تینوں مذہبی جماعتیں یعنی جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماءِ پاکستان اور کچھ چھوٹی چھوٹی جماعتیں شامل ہوگئیں۔ ویسے اتحاد میں اگر سچ پوچھیں تو ان تینوں مذہبی جماعتوں کے کارکن ہی زیادہ نمایاں نظر آتے تھے۔ اتحاد کا انتخابی نشان ’ہل‘ تھا۔ اسی ہل کی تصویر اور آواز، یعنی نعرے کی آوازیں ایڈیٹنگ کے لیے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اختلاف کا انتخابی جلوس ٹی وی سٹیشن کے سامنے سے اکثر یہ انتخابی نعرے لگاتا ہوا گزرا کرتا تھا ’سات مارچ دس مارچ۔ بھٹو کوئیک مارچ کوئیک مارچ‘
ایک دن میں نے دیکھا کہ ٹی وی کی عمارت سے قدرے دور تحریک استقلال کے جاوید ہاشمی میگا فون پر ریلی سے تقریر کر رہے تھے۔
جی ہاں میں بات کررہی ہوں موجودہ مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی کی۔ اپنی سیاسی زندگی کی ابتدا میں وہ ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں بھی شامل رہے۔ ملتان کے اس مڈل کلاس جواں سال سیاست داں سے خاصی امیدیں وابستہ کی جارہی تھی۔ گو کہ بعد میں جنرل ضیاالحق کی کابینہ میں شامل ہونے کے انکے فیصلے سے بہت ہی مایوسی ہوئی۔

جاوید ہاشمی کو پنجاب یونیوسٹی لاہور سے فارغ اتحصیل ہوئے چند برس ہی گزرے ہونگے۔ خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ شعلہ بیاں مقرر بھی تھے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ مجھے تو وہ اس وقت احمد ندیم قاسمی کے اس شعر کی کچھ کچھ عملی تصویر لگے۔
فقط اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں
ویسے کہیں یہ نہ سمجھ لیجیے گا کہ قاسمی صاحب نے یہ شعر ان کے لیے لکھا تھا۔ خیر میں رک کر جاوید ہاشمی کی تقریر سننے لگی۔ مجھے ان کے الفاظ درست طور پر یاد نہیں مگر لب لباب یہ تھا کہ کہ ریڈیو اور ٹی وی پر صرف حکومت وقت کی تشہیر ہورہی ہے۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ اور یہ کہ حزب اختلاف کی انتخابی سرگرمیوں کو بھی کوریج دی جائے۔
معلوم نہیں کہ پی این اے کے رہنماوں کی آتشی تقریروں کا اثر تھا، اتحاد کا دباؤ تھا یا کچھ اور۔۔۔۔۔
ٹی وی پر پی این ایے کی انتخابی سرگرمیوں کی رپورٹنگ تو شروع ہوگئی۔ مگر نیوز کے عملے کو ان خصوصی ہدایات کے ساتھ کہ پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے) کے انتخابی نعرے اور انتخابی نشان ' ہل' کو حتی الامکان سکرین پرنہ دکھایا جائے اور مختصر رپورٹ کے دوران اس کا ساؤنڈ یعنی لفظ ’ ہل‘ بھی کسی کو کم کم ہی سنائی پڑے۔
ایڈیٹنگ کے دوران فوٹیج میں جہاں کہیں ’ہل‘ نظر آتا تھا یا اس کا نعرہ سنائی دیتا تھا نیوز پروڈیوسر کی آواز بلند ہوتی تھی۔’ کٹو کٹو یار (کاٹو کاٹو یار ) یہ ہل نہ کٹا تو اپنی نوکری کٹ جائیگی‘ اور کبھی نعروں یعنی ’ہل ہمارا جیتے گا‘ وغیرہ پر رپورٹر کی آواز حاوی کردی جاتی تھی۔
ریڈیو پر لفظ ’ہل‘ کے بارے میں بوکھلاہٹ کا عالم یہ تھا کہ ایک اقتصادی رپورٹ میں جب تجـزیہ نگار نے تین مرتبہ کہا کہ اس مسئلے کا اس کے سوا کوئی ’حل‘ نہیں تو ریڈیو کے ایک جونیئر اہلکار نے کہہ دیا کہ یہ ٹاک قابل نشر نہیں۔ اس میں بار بار ’حل‘ کا ذکر ہے۔
ایسے ہی سلسلوں کے چلتے سات مارچ کا معرکۃ آرا دن آ پہنچا۔ اس دن ٹی وی پر خوب رونق تھی۔ سٹوڈیوز میں ایک بڑا سا خوبصورت سیٹ لگایا گیا تھا۔ چار کیمرے بیک وقت براہ راست الیکشن کی نشریات کی کوریج کر رہے تھے۔ موسیقی کے خصوصی پروگرام اور مزاحیہ خاکے خاص الیکشن کی مناسبت سے تیار ہوئے تھے، نشریات کا دورانیہ بڑھا دیا گیا تھا، خاصا جشن کا سا سماں تھا۔ تاہم اگلے ہی دن یہ رونق ماند پڑھ گئی۔
اس دن دھاندلیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے حزب اختلاف نے نہ صرف نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ صوبائی اسمبلیوں کی ووٹنگ کا بھی بائیکاٹ کر دیا گیا۔ اس کے باوجود کم از کم ٹی وی اور ریڈیو کی حد تک تو انتخابات بخیر و خوبی انجام پائے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ نہ جیتنے والی پارٹی کو اپنی فتح کایقین تھا اور نہ ہارنے والوں کو اپنی شکست کا۔
ایک قومی روزنامہ شدت سے دھاندلی کے الزاما ت عائد کرتا رہا۔ مگر انفرادی یا مقامی سطح پر واقعات کے سوا ایسی کسی منظم دھاندلی کے شواہد پیش نہیں کیے گئے جیسے بعد میں جنرل ضیا الحق کے ریفرنڈم یا بعد کے انتخابات میں باقاعدہ طور پر سرکاری سطح پر کی جاتی رہی۔
جنرل ضیا الحق کے ریفرنڈم میں تو دروغ بر گردن راوی سنا تھا کہ فرشتوں نے بھی ووٹ ڈالے۔
آئندہ جمعے کو پھر ملاقات ہوگی۔



















