چمن سرحد:پولیس اور مظاہرین میں تصادم

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ملحقہ پاک افغان سرحد ایک بار پھر بند کرنے کے خلاف مظاہرین اور پولیس میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سیمت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
باب دوستی کے مقام پر دونوں ممالک کے سیکورٹی فورسز کی جانب سے چیکینگ کے طریقہ کار پراختلاف کی وجہ سے سرحد منگل سے بند ہے جس کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹرید بند ہے بلکہ کراچی سے بلوچستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے تیل اور فوجی سازوسامان کی سپلائی بھی ایک بار پھر بند ہوگئی ہے۔
چمن میں باب دوستی کے قریب پاک افغان سرحدپر بدھ کے روز اس وقت مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جب مظاہرین نے پاک افغان سرحد کو زبردستی کھولنے کی کوشش کی۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پھتراؤ کیا۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا۔ اس جھڑپ میں چمن پولیس تھانہ کے ایس ایچ اوسمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ایف سی نے پاک افغان سرحد پر پاکستان کی طرف کھڑے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والے سینکڑوں کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کو چمن کے ایف سی قلعے میں منتقل کردیا۔ اس کے علاوہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والے ٹرکوں کوایک کھلے میدان میںکھڑا کردیا ہے۔
پاک افغان سرحد کودونوں ممالک کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے سرحد عبور کرنے والوں کی چیکینگ کےمسئلے پر اختلاف کی وجہ سے منگل کے روز بند کیا گیا ہے کیونکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان آنے اور جانے والے ٹرکوں کی سخت تلاشی لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سخت تلاشی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر سرحدعبور کرنے والے رھڑی بانوں اور چمن کے مقامی تاجروں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔
افغان سرحدی فورسز کے ترجمان سعیداللہ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز صرف رشوت لینے کی خاطر افغان اور پشتون عوام کوتنگ کررہی ہے لیکن چمن میں ایف سی ترجمان کرنل عابد کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مشتعل مظاہرین کوبھڑکانے میں افغان سرحدی فورسز کاہاتھ ہے جوہر وقت سرحد پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس سے قبل تیس اگست کو بھی سر حد دو دن کے لیے بند کی گئی تھی جس کے نتجیے میں نامعلوم افراد نے بیس سے زیادہ کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کو نذر آتش کیا تھا جوافغانستان میں نیٹوافواج کے تیل اور دیگر فوجی سازوسامان لے جارہے تھے۔ ان جلے ہوئے کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کا ملبہ ابھی تک سڑک پر پڑا ہے۔















