’دو جج سیاسی بنیادوں پر تعینات ہوئے‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد میں وکلاء نے الزام لگایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں تعینات کیے جانے والے دو ججوں کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے جو عدلیہ کی آزادی پر ایک ضرب ہے۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عتیق شاہ نے بدھ کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعینات کیے جانے والے سات میں سے دو ججوں کا تعلق ایک ایسی سیاسی مذہبی جماعت سے ہے جو عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی شدید مخالف رہی ہے اور جس نے ہمیشہ فوجی آمروں کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ججوں کی تعیناتی میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا بلکہ سیاسی بنیادوں پر تقرری کی گئی اور مرکز میں حکومت میں شامل ایک اتحادی جماعت کو نوازا گیا ہے۔
وکیل رہنما کا کہنا تھا کہ مقرر کیے جانے والے ایک جج پشاور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے ہیں اور تین نومبر کو پی سی او کے نفاذ کے بعد بھی وہ اپنے عہدے پرفائز رہے اور انہوں نے پی سی او ججز کے حلف لینے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
عتیق شاہ نے مزید بتایا کہ ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے پندرہ ستمبر کو پشاور میں وکلاء کا جنرل باڈی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں صوبہ بھر سے وکلاء تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے جبکہ اجلاس میں ائندہ کا لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔
خیال رہے کہ چند دن قبل صدر پاکستان آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں دو جبکہ پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس میں گیارہ ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ان ججوں کی تعیناتی وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی ایڈوائس پر کی گئی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں تعینات کئ جانے والے سات ججوں میں سے تین کا تعلق سیشن عدالتوں اور چار کا تعلق بار سے بتایا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں جن سات ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی کی گئی ہے ان میں لیاقت علی شاہ، مظہر عالم، فصیح ملک، عبدالعزیز کُندی، مفطاع الدین، عطا اللہ خان اور محمد صفدر خان شامل ہیں۔















