زرداری کا ایک سال، بحران ہی بحران

صدر زرداری
،تصویر کا کیپشنایک سروے کے مطابق ایک برس میں صدر زرداری کی مقبولیت پچاس فیصد کم ہوئی ہے
    • مصنف, ظہیرالدین بابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی طرف سے کثرتِ رائے سے منتخب ہونے کے تین دن بعد، نو ستمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو جب آصف علی زرداری نے صدرِ پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو سیاست، معیشت یا سلامتی، کوئی محاذ ایسا نہیں تھا جس میں ملک کو بحران کا سامنا نہ ہو۔ گزشتہ ایک سال کا جائزہ لیا جائے تو صدر زرداری کی حکومت انہی بحرانوں کے بھنور میں الجھی رہی ہے۔ کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں لیکن سیاسی، معاشی اور سلامتی کے بحران اپنی جگہوں پر قائم ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کو آئینی لحاظ سے طاقتور ایوانِ صدر ان کے پیشرو ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے وراثت میں ملا تھا۔ وفاقی اقدار کے برعکس انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ نہیں چھوڑا اور اس طرح پورا سال فیصلوں کا اصل مرکز ایوانِ صدارت ہی بنا رہا۔

مسائل

صدر آصف علی زرداری نے اقتدار سنبھالا تو معاشی لحاظ سے ملک دیوالیہ ہونے والا تھا۔ بجلی کی قلت نے صنعت و کاروبار کو مفلوج کر رکھا تھا۔

مسلم لیگ نواز دو نومبر دو ہزار سات کی عدلیہ کے بحال نہ ہونے کے احتجاج میں وفاقی حکومت سے علیحدہ ہو کر دوستانہ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرنے کا اعلان کر چکی تھی۔ گورنر سلمان تاثیر کی وساطت سے مسلم لیگ قاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممکنہ اتحاد کی خبروں سے مسلم لیگ نون کو صوبہ پنجاب میں اپنی حکومت کے خلاف خطرہ محسوس ہو رہا تھا اور صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی عروج پر تھی۔

سوات اور قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف فوج کی چیدہ چیدہ کارروائیاں جاری تھیں۔ امریکہ میں رخصت ہوتی ہوئی صدر جارج بش کی حکومت دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اپنے اہم پارٹنر پاکستان سے ایسے نتائج کی طلبگار تھی جسے وہ اپنی آخری فتوحات کی فہرست میں شامل کر سکے۔

اہداف

بیس ستمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو نو منتخب صدر زرداری نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے فخر سے خود کو ایسا صدر کہا جو ازخود اپنی طاقت کو چھوڑ کر سامنے بیٹھے ہوئے ایوانوں کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانا چاہتا ہے جو بقول ان کے ایک آمر نے پارلیمان سے چھین لیا تھا۔ انہوں نے سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لیے ایک کل جماعتی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

صدر زرداری
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری نے بینظیر بھٹو کے اصولوں پر چلنے کا عزم ظاہر کیا تھا

معیشت میں صدر نے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، روزگار کے مواقع، زرعی شعبے کی طرف خاص توجہ اور زرِ مبادلہ میں استحکام وغیرہ جیسے روایتی وعدے کیے اور یقین دہانی کرائی کہ سنہ دو ہزار نو کا سورج ڈھلنے سے پہلے بجلی کے بحران سے چھٹکارا پا لیا جائے گا۔ یہ وعدہ بھی ہوا کہ آٹے کے بحران یا خوراک کے بحران جیسے مسائل سے عوام کو محفوظ رکھا جائے گا۔

اپنے اہداف مقرر کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے اپنی اہلیہ اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے جمہوری اصولوں کا طویل حوالہ دیا اور عزم کیا کہ وہ انہی اصولوں پر عمل پیرا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے زخم کو وہ خوب سمجھتے ہیں اس لیے وہ دہشت گردی جیسے سرطان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ لیکن پہلے خطاب کی شام ہی ایوانِ صدارت سے چند سو گز کے فاصلے پر میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے نے صدر زرداری کے مدمقابل شدت پسند عناصر کی صلاحیتوں کا چہرہ دکھا دیا۔

معیشت ایک برس بعد

صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان کی پہلی بڑی کامیابی خود کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھی۔ پاکستان کے دوست ممالک کا فورم بنا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کی خواہشمند عالمی برادری نے جمہوری حکومت اور اس کے جمہوری صدر کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ دوست ممالک کی سفارشات سے آئی ایم ایف یا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ مشروط امدادی پیکج دینے پر رضامند ہو گیا۔ کیری لوگر بِل عنقریب امریکی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہو گا۔

مالیاتی امور پر بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق پہلے قرض کے بعد سے اب تک صدر زرداری کی اقتصادی ٹیم روزمرہ کی بنیادوں پر معیشت چلا رہی ہے۔ ایک ہاتھ سے قرض لیا جا رہا ہے تو دوسرے ہاتھ سے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر لین دین کے معاملے میں تو اپنا تاثر بہتر کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن تاحال کوئی ایسی معاشی پالیسی سامنے نہیں آئی جس کا اثر عوام کی سطح تک پہنچ سکے۔

ملک کو آٹے، چینی کے بحرانوں کا سامنا رہا
،تصویر کا کیپشنملک کو آٹے، چینی کے بحرانوں کا سامنا رہا

آصف فاروقی کا ماننا ہے کہ صدر آصف علی زرداری معاشی امور پر ایسی ٹیم بنانے میں ناکام رہے ہیں جو اقتصادی مراعات کا فائدہ عام شہری تک پہچا سکے۔ اسی معاشی بصیرت کا فقدان ہے کہ آٹے کی قلت اور مہنگائی کے بعد اب چینی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ بجلی کے بحران کی وجہ سے محض ٹیکسٹائل کی صنعت میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ پٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کر دی گئی ہے۔ نوے کی دہائی میں برطرف کیے گئے ہزاروں سرکاری ملازمین کو روزگار کے نام پر بحال تو کیا گیا ہے لیکن ملک میں روزگار کے مواقع تبھی پیدا ہوں گے جب ترقیاتی منصوبوں پر عمل کیا جائے گا جبکہ ترقیاتی بجٹ پچاس فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سرکاری ملازمین کو مالکان حصص جیسی سکیمیں وقتی ریلیف تو دے سکتی ہیں لیکن یہ مسائل کا مستقل حل نہیں ہیں

سلامتی

گزشتہ ایک سال میں پاکستان کو ملنے والی بیشتر امداد کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کارکردگی سے تھا۔ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں فوج اور حکومت کے درمیان مکمل تعاون رہا اور صدر آصف علی زرداری کی حکومت سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے میں کامیاب رہی۔

نومبر دو ہزار آٹھ میں بھارت میں ممبئی حملوں کے بعد سے رواں سال کے آغاز میں پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کا بیرونی دباؤ بڑھ گیا تھا۔ امریکہ میں ڈیمو کریٹ پارٹی کے صدر براک اوباما نے اقتدار سنبھالا۔ اوباما اپنی صدارتی مہم میں دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے تھے کہ وہ افغانستان کی جنگ کو پاکستانی حدود میں لے جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ لیکن پاکستانی حکومت جمہوری اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے بظاہر منفی سمت میں جا رہی تھی۔

فروری میں حکومت نے سوات کے طالبان کے ساتھ سیز فائر کے بعد مذاکرات شروع کیے اور قبائلی علاقوں میں بھی بظاہر خاموشی طاری ہو گئی۔ پھر مولانا صوفی محمد کو ثالث بنا کر سرحد حکومت نے سوات کے طالبان کے ساتھ شرعی نظامِ عدل کا معاہدہ کیا۔ لیکن معاہدے نے طالبان کو سوات میں ایک متوازی حکومت فراہم کر دی۔

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے نظامِ عدل ریگولیشن پر دستخط کرنے میں تاخیر کی اور پھر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ میں بھیج دیا۔ اس طرح معاملات تاخیر کا شکار ہوئے اور طالبان نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ ایک نو عمر لڑکی کو کوڑے مارے جانے کی ویڈیو سامنے آنے اور سکیورٹی و سرکاری حکام پر وقتاً فوقتاً حملوں کے واقعات نے مئی میں باقاعدہ فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی۔

اگرچہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پے در پے امریکی ڈرون حملے تنقید کا نشانہ بنے لیکن ایسے ہی ایک حملے میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود ہلاک ہوئے۔

جنوبی وزیرستان اور ایف آر بنوں میں فوج نے آپریشن کیے، خیبر ایجنسی میں اب بھی آپریشن جاری ہے لیکن بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ موجودہ جنگی حکمتِ عملی کا مقصد پاکستان کے دوست ممالک کے مطالبات کو قومی دھارے میں لا کر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے اہداف حاصل کرنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستانی حکومت غیر ملکی ہدایات لینے کی بجائے قومی ترجیحات سے بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہے۔

عدلیہ

دو نومبر دو ہزار سات کی عدلیہ کی بحالی وہ مرحلہ تھا جب صدر آصف علی زرداری کو بدترین اندرونی دباؤ کے سامنےگھٹنے ٹیکنے پڑے۔ چوبیس فروری کو اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف جو پنجاب کے وزیرِاعلٰی بھی تھے، دونوں کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ شہباز شریف کی وزارتِ اعلٰی ہٹتے ہی صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے اور ان کے آنسو پونچھنے کے لیے وکلاء آگے بڑھے۔

جسٹس افتخار
،تصویر کا کیپشنصدر کو عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا رہا

مارچ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایک سال ہو چکا تھا اور تین نومبر دو ہزار سات کی عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلانے والے وکلاء کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی جس کی باگ دوڑ صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں ہے، نے کبھی آئینی پیکج، کبھی نئے حلف تو کبھی مائنس ون کے فارمولے کے ساتھ عدلیہ کی بحالی کو لٹکائے رکھا۔ چنانچہ جب بارہ مارچ کو وکلاء کے لانگ مارچ نے اسلام آباد کا رخ کیا تو حکومت نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

لیکن جب بات پنجاب میں آئی تو صوبائی حکومت سے محروم ہونے والی مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر وکلاء کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً ایوانِ صدر میں سولہ مارچ کی رات فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی، صدر آصف علی زرداری کو ججوں کی بحالی پر آمادہ کرنے پر راضی ہو گئے۔

سیاست

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ظفر عباس کے مطابق تعاون کرنے والی حزبِ اختلاف ہونے کے باوجود صدر آصف علی زرداری سے جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے جو توقعات کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔

اٹھائیس مارچ کو دوسری بار پارلیمانی ایوانوں سے مشترکہ خطاب میں صدر نے مفاہمت کا نعرہ بلند کیا اور صوبہ پنجاب میں گورنر راج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بعد میں دو نومبر دو ہزار سات کی عدلیہ میں پنجاب میں میاں شہباز شریف کی حکومت بھی بحال کر دی۔ سندھ اور سرحد میں صدر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کامیاب اتحاد قائم کر رکھا ہے۔

بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور بلوچوں کو احساسِ محرومی سے نکالنے کے لیے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے مقدمات ختم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے مسائل اور میثاقِ جمہوریت کے مطابق آئینی ترامیم کے لیے الگ الگ کل جماعتی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔

مسلم لیگ نون کے ساتھ ماضی کے مقدمات اور فوجی آپریشنز وغیرہ کے نام پر سرد سیاسی جنگ جاری ہے۔ سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ تاحال صدر آصف علی زرداری کے سامنے ہے۔

ظفر عباس کہتے ہیں کہ جب تک سترہویں ترمیم کا خاتمہ نہیں ہو گا تب تک یہ تاثر برقرار رہے گا کہ آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے ایک مضبوط اور بااختیار صدر بن کر رہنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال میں صدر آصف علی زرداری نے کسی بھی اہم موقع پر مرحومہ بے نظیر بھٹو کی تصویر کو اپنے پہلو سے الگ نہیں کیا، خواہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہو یا کسی ٹی وی چینل کو انٹرویو۔ صدر زرداری نے اقتدار سنبھالا تو ان پر ماضی میں کرپشن کے کئی الزمات تھے اور عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف دیگر سیاسی رہنماؤں کی نسبت کم تھا۔ لیکن گزشتہ ماہ ایک امریکی ادارے پیو گلوبل کی طرف سے کیئے گئے سروے میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر آصف علی زرداری کی مقبولیت ایک سال میں پچاس فیصد کم ہو گئی ہے۔