قانونی ترسیلات زر میں اضافہ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم قانونی طریقے سے وطن بھیجنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی پالیسی کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی نے رواں مالی سال کے دوسرے ماہ کے دوران سات سو اسی اعشاریہ تریپن ملین ڈالر کی رقومات وطن بھیجیں ہیں۔
یہ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران بھیجی جانے والی کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 188.23 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور کی وزارت نے حال ہی میں پاکستان ’ریمیٹینس انیشی ایٹو‘ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی منتقلی کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی آمد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ خانانی اینڈ کالیا اور زارکو منی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے بعد حکومت نے رقومات کی قانونی طریقے سے منتقلی کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ستمبر مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ترسیلات زر کی مد میں ریکارڈ رقم بھیجی ہے۔ اس سے پہلے جولائی میں 744.85 ملین ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجی گئی تھیں۔
’ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ یعنی جولائی اور اگست کے دوران متحدہ عرب امارات، امریکہ، سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، سلطنت عمان، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک سے بالترتیب 324.17 ملین ڈالر، 316.94 ملین ڈالر، 296.44 ملین ڈالر، 211.48 ملین ڈالر، 148.49 ملین ڈالر اور 52.12 ملین ڈالر کی ترسیلات زر وطن آئی ہیں۔‘
مجموعی طور پر رواں سال کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک سے ترسیلات زر کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زر مبادلہ کے ذخائر چودہ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، بینک کے اعلامیے کے مطابق مرکزی بینک کے پاس دس ارب ڈالر سے زائد اور کمرشل بینکوں کے پاس تین ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔



















