ڈالر کے بجائے یوان معیار بنانے پر غور

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان اور چین کے مابین تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے چین کی کرنسی کو معیار بنانے پر غور کیا جارہا ہے اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو چین کے ساتھ تجارت ڈالر کے بغیر ممکن ہوگی۔
حکام کے مطابق ابھی مذاکرات انتہائی ابتدائی مراحل میں ہیں اور اب تک حتمی طور سے کوئی بھی بات نہیں کہی جاسکتی۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے سربراہان کے درمیان مذاکرات میں کاروباری سودوں کی ادائیگی کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کرنے کے بجائے چینی کرنسی یوان یا پاکستانی روپے میں ادائیگیاں کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان سید وسیم الدین نے چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی کرنسی پر غور کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی بینک کے گورنر سید سلیم رضا کے چین کے دورے کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کے بجائے تجارتی کرنسی کے معاملے پر مذاکرات کے لیے چین کے مرکزی بینک سے دعوت نامے کا انتظار ہے جس کے بعد ہی سٹیٹ بینک کے گورنر چینی حکام کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
اگر چین اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو پاکستان چین کے ساتھ ڈالر کے بجائے یوان میں تجارت کرنے والا ساتواں ملک بن جائے گا۔ اس سے قبل ارجنٹائن، بیلارس، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، ملائشیا، اور جنوبی کوریا چین کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے چین کی کرنسی کو معیار بنانے پر معاہدے کرچکے ہیں۔ اور اسی سلسلے میں روس اور جاپان کے ساتھ چین کے مذاکرات جاری ہیں۔
کراچی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر انجم نثار کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور چین کے مابین اس طرح کا کوئی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو یہ مثبت اقدام ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عالمی بحران کے بعد چین کی معیشت نے بہت جلد سنبھالا لیا ہے اور اسی وجہ سے اب اس کی کرنسی بھی مضبوط ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر یوان کو معیار بنانے سے پاکستانی تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ دیکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مذاکرات کے دوران پاکستانی تجارت کو دیکھتے ہوئے روپے میں اگر لین دین کی جاتی ہے تو پھر پاکستان کو فائدہ ہوگا تاہم ابھی ان معاملات پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے بقول یہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہوگا اور انہیں امید ہے کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت تمام فریقین کو اعتماد میں لے گی۔
ماہر معاشیات اسد سعید بھی امریکی ڈالر کے بجائے چین کے ساتھ تجارتی لین دین میں یوان یا روپے کو معیار بنانے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول اگر اس طرح کا معاملہ طے پا جاتا ہے تو ملک کے زرمبادلہ پر دونوں ملکوں کے تجارتی لین دین سے خاص اثر نہیں پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















