ہم نے بھارت سے زیادہ کام کیا ہے: ملک

رحمان ملک
،تصویر کا کیپشنبھارتی حکومت نے جو مزید معلومات فراہم کی ہیں اُن کی جانچ پڑتال کے لیے وقت چاہیے: رحمان ملک
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے بھارتی ہم منصب پی چدم برم کو ممبئی حملوں کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات پر مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ کے حوالے سے جتنا پاکستان نے کام کیا ہے اُتنا بھارت نے بھی نہیں کیا۔

جمعہ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر علاج ایک وفاقی وزیر کے والد کی عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس ماہ ہونے والے اجلاس میں بین الاقوامی فورم میں بیٹھ جائیں اور اس مقدمے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا موازنہ کرلیں۔

انہوں نےکہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کو امریکہ جانے کی ضروت نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان آئین یا پھر میں بھارت چلا جاتا ہوں اور دونوں ملکوں کے نمائندے بیٹھ کر اس واقعہ کی مل کر تحقیقات کریں۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کی تحقیقات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا اور وہ امریکی انتظامیہ سےکہیں گے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کےقانون نافذ کرنے والے اداروں نے 76 دنوں میں ممبئی حملوں کےحوالےسے تحقیقات کرکے اس میں حملہ آوروں کی اعانت کرنے پر 7 سے زائدافراد کو گرفتار کیا جبکہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداوں نے 90 دنوں سے زائد اس واقعہ کی تحقیقات پر لگائے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اس واقعہ کے متعلق جو مزید معلومات فراہم کی ہیں اُن کی جانچ پڑتال کے لیے وقت چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت پہلے ذکی الرحمن لکھوی کو ممبئی حملوں کا ماسٹرمائنڈ قرار دیتی رہی جب اُن کو گرفتار کر لیا گیا تواب وہان حملوں کا ماسٹر مائینڈ حافظ سعید کو قرار دے رہی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سیعد کی رہائی پر بھارتی حکومت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا تھا جنہیں بعد ازاں عدالت نے رہا کردیا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے سات سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ہونے والی مزید پیش رفت کے بارے میں عوام کوآگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نےکہا کہ پاکستانی حکومت نے بھی ممبئی حملوں کےمتعلق کچھ شواہد مانگے تھے لیکن بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ وہ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد یہ معلومات پاکستانی حکومت کو فراہم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام بھی چاہتے ہیں کہ سمجھوتہ ایکپریس کےملزمان کو بھی پکڑا جائےاور اُنہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

دہشت گردی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کےبعد سات گروپ آپس میں لڑرہے ہیں۔