وانا پانچ ماہ سے بجلی سے محروم

وانا کے لوگوں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے
،تصویر کا کیپشنوانا کے لوگوں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے لیے بجلی کی سپلائی گزشتہ پانچ ماہ سے معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مُشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری زیر محمد نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہزار چار کے فوجی آپریشن یا دو ہزار چھ میں ازبکوں کے خلاف جنگ سے کئی گنا بڑھ کر اس سال بجلی کی بندش نے تباہی پھیلائی ہے۔

یاد رہے کہ اس سال اپریل کے مہینے میں ٹانک سے وانا جانے والی بجلی کی مین لائن کے کئی ٹاوروں کو محسود علاقے میں نامعلوم مُسلح لوگوں نے تباہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے صرف شہر کی بجلی سپلائی معطل نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی سپلائی بھی معطل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وانا کے لوگوں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور تمام قبائلی علاقہ جات کو ملا کر بھی اکیلے وانا کی زرعی پیدوار کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اپریل سے لے کر نہ صرف بجلی مکمل طور پر بند ہے بلکہ وانا کو جانے والی سڑک بھی بند ہے۔ ان کے مطابق وانا کی زرعی خوشحالی کا مکمل انحصار ٹیوب ویلوں پر ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سےکروڑوں روپے سالانہ کمانے والے باغات بربادی کے دہانے پر ہیں۔

وانا
،تصویر کا کیپشنوانا جانے والے راستوں کی بندش سے بھی لوگ مشکلات کا شکار ہیں

زیر محمد کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان بالعموم اور اس کا صدر مقام وانا بالخصوص گزشتہ آٹھ سال سے میدان جنگ بنا ہوا ہے لیکن بعض اوقات جنگ سے براہ راست منسلک عوامل گو کہ زیادہ سنسنی خیز نہیں ہوا کرتے پر اپنے اثر اور تاثیر کی بنیاد پر زیادہ مہلک اور تباہ کُن ہوتے ہیں۔

زیر محمد کا کہا تھا کہ وانا کے لیے جانے والے راستوں کی بندش کی وجہ سے وہ جن راستوں پر اپنے گھروں کو جاتے ہیں ان راستوں پر ان گنت تلاشیوں اور بے عزتیوں کا طویل سلسلہ ہوتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران بسا اوقات ٹانک؛وانا روڈ کے بند ہونے کی وجہ سے وانا کے لوگ ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب اور پھر وانا جاتے ہیں اور’جہاں وہ ایک سو پچاس روپے کرایہ دیتے تھے وہاں اب ایک ہزار روپے کرایہ دینے پر مجبور ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وانا کے لوگوں نے تین مرتبہ ہجرت کی لیکن کسی نے ایک خیمے کی حد تک بھی مدد نہ کی۔انہوں نے حکومت وقت اور حقوقِ انسانی کی علمبردار دوسری تنظیموں سے سوال کیا کہ وانا کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کلمہ گو ہیں، پاکستانیوں کی زبان بولتے ہیں، نادرہ کا شناختی کارڈ بھی ان کے پاس ہے، پاسپورٹ بھی سبز بناتے ہیں پھر اس قدر لاتعلقی کیوں برتی جا رہی ہے۔