مفاہمتی کمیشن:عاصمہ جہانگیر سے رابطہ نہیں

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں انسانی حقوق کمشین کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے صدر آصف زرداری کی طرف انہیں مفاہمتی کمیشن کا چیئرپرسن بنانے کے خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی انہیں کمشین کی سربراہی کے لیے کوئی باقاعدہ پیشکش نہیں گئی تاہم اگر کوئی پیشکش کی جاتی ہے تو وہ اس کے اغراض مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گی۔
ان کے بقول جو مفاہمتی کمیشن تشکیل دی جائے اس میں چاروں صوبوں کو نمائندگی دی جائےاور اگر کمیشن کو معلومات تک رسائی نہ دی گئی تو بھر کمیشن کا قیام بے سود ہوگا۔
سابق صدر پرویز مشرف کو ڈیل کے تحت بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی خبروں پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ وہ ایک مفاہتمی کمیشن قائم کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اس کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر ہوں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ انہیں مفاہمتی کمیشن کی سربراہ مقرر کرنے کے لیے کوئی باضابطہ رابط نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی اس بارے میں ان کی آصف علی زرداری سے کوئی بات ہوئی ہے۔
انہوں نے صدر زرداری کی طرف سے مفاہمتی کمیشن کے اعلان پر کہا کہ اس طرح کے کمیشن کے قیام کا ذکر میثاق جمہوریت میں موجود ہے اور اگرحکومت کی طرف سے کوئی ایسا کمیشن بنایا جاتا ہے تو یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کمیشن کا حصہ بنیں۔
ان کے بقول اگرچہ ماضی میں حمود الرحمٰن کمیشن کا اتنا اثر نہیں ہوا البتہ اس کمیشن کی وجہ سے کئی مفروضے ختم ہوئے اور لوگوں کو ان اداروں کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ ملا جو ملک کو توڑنے کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جو کمیشن تشکیل دیا جائے اس میں چاروں صوبوں کو نمائندگی دی جائے جبکہ سیاسی جماعتوں کو بھی اس عمل میں شامل کر کے ان کا تعاون حاصل کیا جائے۔
عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ کمیشن کو اہم تاریخی واقعات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس بات کو دیکھنا چاہئے کہ پاکستان میں جمہوریت کیوں جڑ نہیں پکڑ سکی۔
ان کی رائے میں کمیشن میں جو لوگ شامل کیے جائیں ان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ ماضی کے واقعات کا جائزہ لے کر آئندہ کے سمت کا تعین کرسکیں۔ان کے بقول لوگوں کا یہ حق ہے کہ انہیں ماضی میں ہونے والے واقعات کے حقائق کے بارے میں علم ہو کیونکہ اب معاشرے میں رہنے والوں کو شیشہ دیکھنے کی ضرورت پڑے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ کسی بھی کمیشن کی یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کسی ایک یا سب کو خوش کردے کیونکہ اگر کمیشن ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ہنسی خوشی کی رپورٹیں ہی مرتب کی جاتی ہیں۔



















