کارپوریٹ فارمنگ، مشرف دور کے قانون کا نتیجہ

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سعودی حکومت اور پاکستان کے سرمایہ کاری بورڈ کے درمیان پاکستان میں زرعی زمین پٹے پر دینے کے لیے جو روابط ہوئے ہیں ان کی بنیاد سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بننے والا ایک قانون ہے جس کے تحت حکومت کسی بھی ملک، غیر ملکی فرد یا کمپنی کو ملک کے چاروں صوبوں میں لامحدود زرعی زمین آسان شرائط اور پرکشش مراعات پر زرعی استعمال کے لیے فروخت کرنے یا پٹے پردینے کی مجاز ہے۔
حکومت پاکستان کو یہ اختیار سنہ دو ہزار دو میں بننے والے کارپوریٹ فارمنگ ایکٹ کے ذریعے حاصل ہے جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ایک پالیسی بھی تیار کی گئی تھی تاہم اس پالیسی کے تحت ابھی تک کسی کو زرعی زمین الاٹ نہیں کی گئی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے جاری کردہ اس قانون کے تحت وزارت خوراک و زراعت نے سرمایہ کاری بورڈ کے ذریعے ملک کے چاروں صوبوں میں اکانوے لاکھ ہیکٹر قابل کاشت زمین کی نشاندہی کی ہے جو تاحال زیر کاشت نہیں لائی جا سکی ہے۔ اس میں سے اڑتالیس لاکھ ہیکٹرز بلوچستان کے قلات، کوئٹہ، نصیر آباد اور مکران ڈویژن میں واقع ہے۔ پنجاب میں یہ زمین ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، راولپنڈی اور لاہور میں، صوبہ سندھ میں حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ میں ہے جبکہ صوبہ سرحد کے جن اضلاع میں اس نوعیت کی سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ اور کوہاٹ شامل ہیں۔
ان علاقوں میں موجود زمین کو زرعی مقاصد کے لیے ملکی و غیر ملکی کارپوریٹ اداروں اور ممالک کو فروخت کرنے یا نناوے برس کے پٹے پر دینے کے لیے مراعاتی پیکج بھی موجود ہے۔ اس پیکج کی خاص بات یہ ہے کہ اس پالیسی کے تحت فروخت کردہ زمین پر کاشتکاری یا فارمنگ کو صنعت کا درجہ حاصل ہو گا جس کے باعث نہ صرف اس سلسلے میں درآمد ہونے والی مشینری ڈیوٹی فری ہوگی بلکہ مختلف مدوں میں یہاں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ٹیکس کی چھوٹ بھی دی جائے گی۔
زرعی فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مقامی پارٹنر ساتھ ملانے کی پابندی بھی نہیں ہو گی اور اس زمین کی پیداوار اور یہاں بننے والے مویشیوں کے فارمز کی مصنوعات وہ براہِ راست ملک سے باہر بھیجنے کے مجاز ہوں گے۔ سرمایہ کاری کی کم سے کم حد کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے اور اس زمین سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی ملک سے باہر لیجانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ مقامی اور غیر ملکی بنکوں سے کاشتکاری کی مد میں قرض کے حصول کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ پاکستان میں اس پالیسی کے تحت کاشتکاری میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر مزدور قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔ زرعی زمین کو زیر کاشت لانے کے لیے ان سرمایہ کاروں کو پانی کا بندوبست خود کرنا ہو گا البتہ زیرزمین پانی نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینری کی درآمد پر حکومت ان سے کوئی ٹیکس نہیں لے گی۔
ان زمینوں پر کام کرنے کے لیے مقامی افراد کو ملازمت میں ترجیح دی جائے گی۔
سرمایہ کاری بورڈ کے مطابق سعودی حکومت نے چند ماہ قبل اس پالیسی کے تحت پاکستان میں کاشتکاری کے لیے زمین حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن ابھی تک اس درخواست پر عملی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک سعودی حکومت کے لیے نہ تو زمین کا تعین ہوا ہے اور نہ ابھی یہ پتہ چلا ہے کہ سعودی سرمایہ کاروں کو کتنی زمین دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی حکومت کو کارپوریٹ فارمنگ کے تحت زرعی اراضی فروخت کرنے سے متعلق خبریں شائع ہونے کے بعد ماہرین اور زراعت پیشہ افراد کی جانب سے اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
زرعی معاشی ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ فارمنگ کا قانون اور اس کے تحت بننے والی پالیسی اتنی غیر واضح ہے کہ اس پر عمل کی صورت میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ’اگر حکومت بنجر زمین غیر ملکوں کو فروخت کرے پھر تو ٹھیک ہے لیکن قابل کاشت اراضی فروخت کرنے سے ملک میں خوراک کا بحران مستقبل میں مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں‘۔
ایگری بزنس فورم کے سربراہ ابراہیم مغل کے مطابق زرعی زمین مراعات کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنا مقامی کاشتکاروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ’اگر حکومت انہی مراعات کے ساتھ یہ اراضی پاکستانی کاشتکاروں کے حوالے کرے تو ملک سے چینی، آٹے اور دیگر اجناس کے بحران بھی ختم ہو جائیں گے اور ملکی معیشت بھی ترقی کرے گی‘۔



















