’تیسری شادی کب ہوگی۔۔۔‘

    • مصنف, ماہ پارہ صفدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

خبریں پڑھتے ہوئے ایک دن میں خود خبر کا موضوع بن جاؤں گی، یہ تجربہ میرے لیے بلکل نیا تھا۔ خبر بھی اچھی خاصی دھماکہ خیز۔

جی ہاں ایک دن ایک جریدے ’ دھنک‘ کے ورق پلٹتے ہوئے ایک کالم کی سرخی دیکھ کر میں ٹھٹک گئی۔ ’ٹی وی کی چڑیا اونچی اڑتی ہے‘۔ خاصا دلچسپ لگا۔ اگلی سطر پر نظر پڑی تو ماہ پارہ زیدی آجکل ۔۔۔ دیکھ کر چونک گئی۔ مگر ذرا رکیے۔ دھنک کا تعارف تو کرادوں آپ سے پہلے۔

لاہور سے نکلنے والے اس جریدے کے بارے میں صحافتی حلقے جانتے ہیں کہ ستر کی دہائی میں اس نے صحافت کو ایک نیا رجحان دیا۔ یوں تو اس میں سنجیدہ مضامین بھی شائع ہوتے تھے، مگراصل وجۂ شہرت سیاستدانوں، مولوی حضرات، فلمی ستاروں اور ٹی وی فنکاروں کے چٹ پٹے سکینڈل تھے، جن کے باعث مہنگا ہونے کے باوجود خوب بِکتا تھا۔ میں بھی اس کے قاریوں میں تھی۔

جریدے کے ایڈیر سرور سکھیرا بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں ان کے پریس سیکرٹری بھی بنے۔

سکینڈل سے پہلے بہت اختصار سے اس کا پس منظر۔ صفدر ہمدانی ( میرے شوہر، جی ابھی تک تو ہیں) سے میری پہلی ملاقات لاہور ریڈیو پر ہوئی ایک یونیورسٹی پروگرام میں۔ بہت ہی نارمل سے انداز میں۔ مگر جب ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہونے لگا تو احساس ہوا کہ یہ معمول سے ہٹ کر کچھ ہے۔ اب اگر والدین کو ساتھ نہ لیا تو مسئلہ ہوسکتا ہے۔ کم از کم میں یہ رسک نہیں لے سکتی تھی۔

کاش یہاں میں کوئی فلمی سا واقعہ لکھ سکتی۔ مگر افسوس کہ بڑی بور سی بات ہے۔ بڑے ہی روایتی انداز میں رشتہ آیا۔ اماں ابتدا میں کچھ خوش نہیں تھیں۔ ٹی وی پر میرے جانے سے پہلے ہی نالاں تھیں، اب داماد بھی ریڈیو کا۔ بہرحال بعد میں رضامند ہوگئیں اور رشتہ طے ہوگیا۔

ہم دونوں کیونکہ ریڈیو اور گھر پر ملتے رہتے تھے اس لیے کسی پارک وغیرہ یا عرف عام میں کہیں چھپ چھپ کر ملنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی ورنہ ضرور ملتے۔

صفدر مجھے اکثر ٹی وی سے لے کرگلبرگ میری بہن کےگھر تک چھوڑنے جاتے تھے۔ کبھی کبھار ہم لبرٹی مارکیٹ کے واحد فیشن ایبل کافی شاپ ’گوگو‘ میں کولڈ کافی پینے رکتے تھے۔ لاہور کے اکثر جوڑے اور یونیورسٹی کے لڑکے لڑکیوں کے لیے یہ ایک ڈیسنٹ سا گوشۂ عافیت تھا۔

بہرحال حقیقت کچھ بھی ہو دھنک کے جس رپورٹر نے ہمیں بہت مرتبہ ساتھ دیکھا ہوگا اس کے لکھنے کے لیے مصالحہ تو کافی تھا۔ مجھے اس سے کوئی شکایت بھی نہیں۔ مگر مجھے نہیں لگا کہ میری یا صفدر کی ذات کو ہدف بنایا گیا، بلکہ میرے خیال میں تو یہ ہمارے پروفیشن کی تضحیک تھی۔ خصوصاً یہ چند سطریں پڑھ کر خاصی تکلیف ہوئی۔

’ٹی وی نیوز کاسٹر ماہ پارہ زیدی آجکل ریڈیو کے پروڈیوسر صفدر ہمدانی کے ہمراہ گھومتی نظر آرہی ہیں۔ ہمیں صفدر صاحب سے پوری ہمدردی ہے۔ان کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ ٹی وی کی چڑیا بہت اونچی اڑتی ہے۔ ریڈیو پروڈیوسر کے ہاتھ نہیں لگتی۔ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں‘۔

پہلے تو میں ہنس دی کہ ارے چڑیا تو گر بھی چکی۔ ( ہماری عنقریب شادی ہونے والی تھی)۔ مگر دوسرے ہی لمحے سہم گئی یہ سوچ کر کہ اگر منگنی نہ ہوئی ہوتی تو یہ پڑھ کر گھر میں قیامت کھڑی ہوجاتی۔ جگ ہنسائی۔ ناک کٹوانے اور ٹی وی پر جانے کا نہ صرف طعنہ ملتا بلکہ ہوسکتا تھا جانا بھی بند ہوجاتا۔ وہ تو خیر ہوگئی کہ میں نے جلدی سے شمارہ چھپا دیا۔ میری بہن اگلے کئی روز تک مجھ سے پوچھتی رہی ’کمال ہے اس مرتبہ د ھنک نہیں آیا‘۔

شاید اسی قسم کے رویوں کی وجہ سے بہت سے والدین ان پروفیشنز کی خواہشمند ’چڑیاؤں‘ کے پر ہی باندھ دیا کرتے تھے۔

نہ جانے کیوں یہ یقین ہمیشہ میری ذات کا حصہ رہا کہ جو چڑیائیں اڑان بھرنا جانتی ہیں، انہیں اپنی وستعوں کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ صفدر کے ساتھ سے اس یقین کو اور تقویت ملی۔ اسی کے سہارے میں اپنی پانچ سالہ بیٹی اور ایک سالہ بیٹے کو لیکر تنہا ایک اجنبی شہر لندن تک آپہنچی تھی۔

ایسی ہی سماجی سوچ کا حامل ایک اور واقعہ میری دوست نے مجھے ہنس ہنس کر سنایا۔ شادی کے بعد سکرین پر ماہ پارہ زیدی کے بجائے ماہ پارہ صفدر آنے لگا تھا۔ رات نو بجے جب خبرنامے کا آغاز ہوا تو اس کی ایک عزیز جو اس وقت ان کے گھر آئی ہوئی تھیں بولیں: ’ہائے ہائے ذرا یہ ٹی وی کی لڑکیوں کوتو دیکھو ان کو ذرا شرم نہیں آتی۔ روز شادیاں کرتی پھرتی ہیں۔ ابھی چند مہینے پہلے تو ماہ پارہ زیدی تھی۔ لو دیکھو دوسری شادی کرلی ماہ پارہ صفدر ہوگئی۔ اب دیکھو تیسری شادی کب کرتی ہے‘۔ خیر میری دوست نے ان کی تصحیح تو کردی مگر نہ جانے کتنے ذہن ہوں گے جن میں اسی طرح کے تعصبات تشنہء جواب رہ کر پلتے رہتے ہوں گے۔

مگر یہ بہت زیادتی ہوگی اگر میں تصویر کا دوسرا رخ آپ کو نہ دکھاؤں اور وہ یہ ہے کہ ان دنوں ٹی وی پر آنے والوں کا ناظرین سےایک ان دیکھا مگر محبت بھرا سا رشتہ قائم ہوجاتا تھا۔ مگر اس کا ادراک ایک تقریب کےدوران ایک ناظر کے توسط سے ہوا۔ ہوا یوں کہ وہ ہمارے ( میرے اور صفدر کے) قریب آئے با لکل ایسے جیسے قریبی دوست ہوں اور مجھ سے مخاطب ہوکر بولے۔

’میں آپ کو جانتا ہوں۔ آپ ہر دوسرے روز ہمارے گھر آتی ہیں۔ آپ کے چہرے اور آواز سے ہم بہت مانوس ہیں۔ آپ ہمیں اپنی سی لگتی ہیں۔ مگر آپ کی نگاہوں میں ہمارے لیے بہت بیگا نگی ہے‘۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے شکایت کی۔

میں ان شناسا اجنبی کی مشکور ہوں، انھوں نے مجھے یہ فکر بخشی کہ ایسی بے غرض محبتیں زندگی کا سرمایہ ہوتیں ہیں۔

یہ ذکر نامکمل رہےگا جب تک کچھ خطوط کا ذکر نہ کروں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ کس قیامت کے وہ نامے میرے نام آتے تھے۔ کبھی فلمی انداز میں اظہارِ عشق تو کبھی عقیدتوں سے مخمور۔ میں اپنے کئی انٹر ویوز میں ذکر کرچکی تھی کہ میں پیدا تو لاہور میں ہوئی مگر میرا بچپن سرگودھا میں گزرا اپنے والدین کی شفقتوں اور اپنی بہنوں کی محبتوں کے ساتھ۔ یہیں کے واحد ڈگری کالج سے میں نےگریجوایشن کی۔ اسی شہر سے مجھے ایک مختصر سا خط ملا۔ ’ماہ پارہ بیٹی تو نے سرگودھا شہر کا نام روشن کیا۔ ہمیں تجھ پر فخر ہے۔ تو اس پورے شہر کی بیٹی ہے۔ اللہ تجھے ہمت و کامرانی عطا فرمائے‘۔

محبت و عقیدت کے اس بے لوث اظہار پر میری آنکھیں برسوں گزرنے کے بعد بھی بھیگ جاتی ہیں۔

گئے موسموں کی ایسی بیشمار رتوں میں لوٹنا تو ممکن نہیں البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ کبھی تعریف و توصیف کی ان برساتوں میں خود کو اوسان میں رکھنا اور گھر کو بنائے رکھنا مشکل لگا تو کبھی سکرین پر آنا باعث اذیت بھی ہوا۔

(اس کا کچھ احوال تو اگلی ملاقات پر) یہاں بس ذرا یہ ذکر کہ لوگ کہیں نہ کہیں سے ٹیلی فون نمبر ڈھونڈ نکالتے تھے۔ ایک محترم جو آواز سے خاصے با رعب سنائی دیتے تھے۔ صرف یہ کہنے کو فون کرتے تھے کہ ’رات کو تو تم بالکل بلبل لگ رہا تھا‘۔ کیا ٹی وی سکرین اس قدر پرکشش بھی ہوسکتی ہے۔ میں نے بارہا سوچا کہ مجھے اس کا قطعی اندازہ نہیں تھا۔

آئندہ جمعے پھر ملا قات ہوگی۔

آپ کی آراء

عبدا لحفیظ، سرگودھا، پاکستان:

ماہ پارہ صاحبہ آپ کی ایک پچیس برس پرانی تصویر میرے پاس موجود ہے۔ تاہم وہ ذرا خراب ہوگئی ہے۔ میں نو بجے کا خبرنامہ صرف آپ کو دیکھنے کے لیے دیکھتا تھا۔ مگر آپ کی تازہ تصویر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب بڑھاپا شروع ہوچکا ہے۔ کاش آپ صرف اپنی پرانی تصویر ہی لگتیں۔

عامر شفیق، ابوظہبی:

آپ کی یادوں کی کہانی سےگزشتہ اور آج کی تہذیب میں فرق کا اندازہ ہو رہا ہے۔ جس طرح سے آپ نے ذکر کیا کہ آپ کے آبائی شہر سرگودھا سے جو تعریفی خط آپ کو موصول ہوا، ان میں آپ کو بیٹی کہہ کر مخاطب کیا گیا جو بہت اچھا لگا۔ آج کل تو اللہ معاف کرے اور بی بی سی تو صرف پاکستان مخالف خبریں ہی دیتا ہے۔

فضل حسین، سوات، پاکستان

میں آپ کے انداز تحریر سے بہت متاثر ہوا ہوں۔

سلیم رضا، جدہ، سعودی عرب

آپ پاکستان کے میڈیا کی درست تصویر پیش کر رہی ہیں۔ وہاں میڈیا کے ناجائز استعمال نے اخلاقیات کو بری طرح تباہ کیا ہے۔

محمد رفیق تبسم، ریاض، سعودی عرب

بی بی سی کے پروگرام بہت معلوماتی ہوتے ہیں اور ہمیں حالات حاضرہ سے باخبر رکھتے ہیں۔ اب ہر جمعے ماہ پارہ صفدر کا آرٹیکل بہت مزہ دے رہا ہے۔ اب میں اسے ہر جمعے پڑھنے کا عادی ہوگیا ہوں اور اس کی اگلی کڑی کا انتظار رہتا ہے۔ ان کی یادیں قارئین کی معلومات میں اضافے اور دلچسپی کا باعث ہیں۔

شاہین اقبال، کراچی:

میں بہت ہی کم عمر تھا جب آپ کو نیوز پڑھتے سنا کرتا تھا۔ مگر آپ مجھے آج بھی یاد ہیں۔

تنویر احمد، گلگت، پاکستان

میں آپ کی ٹی وی کی کہانی شوق سے پڑھ رہا ہوں۔ میں تیرہ برس سے اردو نشریات بھی سن رہا ہوں۔ مگر آج کل آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ آپ کے لیے ہماری بہت سی دعائیں۔

شکیل احمد، ویسٹ برومچ، انگلینڈ:

ٹی وی ڈائریز پڑھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ کی یاداشت قابل تعریف ہے۔

نوشاد عالم، بینگلور، انڈیا:

اپ کی تازہ کڑی’ تیسری شادی کب ہوگی‘ بہت ہی اچھی لگی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔

ملک، کابل، افغانستان:

لگتا ہے آپ کی زندگی کافی دلکش واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح لکھتی رہیے۔ ہمیں بہت دلچسپ لگ رہا ہے۔

محمد انعام اللہ، واشنگٹن ڈی سی:

ویسے تو ہمیں کالم پڑھنے کا شوق ہے۔ لیکن پہلی مرتبہ آپ کے کالم کو پڑھ کر بہت اچھے خاندان کی سی محبت محسوس کر رہا ہوں۔ آپ واقعات کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کر رہی ہیں۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔