انسداد دہشتگردی قوانین میں ترامیم پرغور

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردی سے سختی سے نمٹنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم پر غور کر رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ، قانون اور فوج ان ترامیم پر آج کل مشاورت میں مصروف ہیں۔ تاہم انہوں نے ان مجوزہ ترامیم کی تفصیل نہیں بتائیں۔
افضل سندھو کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم کسی خاص علاقے جیسے کہ بلوچستان کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ یہ تمام ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ’جہاں ایکشن ہے ان حالات کو دیکھا جا رہا ہے۔‘
ترامیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر مملکت نے تاہم اتنا بتایا کہ ملزمان کے خلاف ثبوت کی صحت اور اگر کوئی شخص اپنا بیان ریکارڈ کروا رہا ہے تو وہ کس کے سامنے کروا رہا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہوگی اس سے متعلق ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس سال مئی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ایک ملاقات میں ترامیم کی ضرورت پر زور دیا تھا جس کے بعد یہ عمل شروع ہوا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ان ترامیم کو حتمی شکل دے کر یا تو پارلیمان کے سامنے یا پھر آرڈیننس کی صورت جاری کر دیا جائے گا۔
افضل سندھو نے اس بات پر زور دیا کہ نئی ترامیم میں اس بات کا خیال مدنظر رکھا جائے گا کہ دہشت گردوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کے بین الاقوامی قوانین کا بھی مکمل احترام کیا جائے گا۔
انگریزی اخبار ڈان کے مطابق مجوزہ ترامیم میں دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کی ضمانت کو مشکل بنانا، مالاکنڈ میں عدالتوں کو دہشت گردی میں ملوث افراد کو ریمانڈ دینے کا خصوصی اختیار، عدالتوں کو کم از کم دس روز کا ریمانڈ دینے کا پابند بنانا، اغوا اور ہائی جیکنگ کے علاوہ دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ملوث افراد کی جائیداد ضبط کرنے، تحقیقات مکمل کرنے کے لیے سات روز کی مدت میں اضافہ کرنا، ریاست کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے ایک ماہ کا وقت دینا اور دو عزت دار افراد کی موجودگی میں تلاشی لینے کی بندش کے خاتمے شامل ہیں۔
انسداد دہشت گردی کا پہلا قانون اگست انیس سو ستانوے میں صدر فاروق لغاری نے نافذ کیا تھا تاہم انیس سو ننانوے میں صدر رفیق تارڑ نے اس میں ترامیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون میں اب بھی ایسی لچک تھی جس کا فائدہ ملزمان اٹھا رہے تھے۔ حکومت اسی لچک کے خاتمے کی بظاہر کوشش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















