’عالمی ضامنوں کا ذکر تک نہیں کیا تھا‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو معافی دلوانے کے بارے میں عالمی ضامنوں سے بات چیت کے متعلق اپنے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بات چیت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
بدھ کی صبح صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ نام نہاد عالمی ضامنوں سے سابق آمر پرویز مشرف کو معافی دلوانے کے متعلق صدر سے منسوب بیان کی وہ تردید کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق پیر کو ایوان صدر میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کے دوران صدر نے کہا تھا کہ مشرف کو نکالنے اور ایوان صدر میں جمہوری قوتوں کی بحالی کے لیے انہوں نے قومی سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات کیے تھے۔
فرحت اللہ بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر زرداری نے پرویز مشرف کو ملک سے نکلنے کی صورت میں انہیں معافی دینے کے لیے عالمی ضامنوں سے بات چیت کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔ بیان کے مطابق مشرف کو نکالنے کے لیے قومی رہنماؤں سے بات چیت کو بدقسمتی سے عالمی ضامنوں سے معافی سے غلط تعبیر کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ مشرف کو نکالنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے بات چیت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ’یہ اس بات چیت کا ہی نتیجہ تھا کہ چاروں صوبائی اور قومی پارلیمان نے مشرف کے مستعفی ہونے کی قراردادیں منظور کیں۔ یہ بھی اس بات چیت کا ہی نتیجہ تھا کہ مشرف کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں ان کے احتساب کے لیے سیاسی جماعتوں نے مل کر جامع اور تاریخی چارج شیٹ تیار کی۔‘
ترجمان نے کہا کہ وہ چارج شیٹ پارلیمان میں پیش ہونے سے پہلے ہی مشرف مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی بات چیت میں کوئی نئی بات نہیں تھی ماسوائے اس کے کہ اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک مشرف کو عوام اور آئین کے خلاف کردہ جرائم پر سزا کا تعلق ہے تو وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ پارلیمان کرے گی۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر سے منسوب بیان کو غلط انداز سے پیش کرنے پر شور شرابہ کرنے کا مقصد صدر زردای کو بدنام کرنا ہے جو کہ ان کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔ ’پیپلز پارٹی اپنے رہنماؤں کے خلاف اس طرح کی تذلیل کرنے کی چلائی جانے والی مہم کی عادی ہوچکی ہے۔ پیپلز پارٹی پہلے کبھی اس سے پیچھے ہٹی ہے اور نہ اب ہٹے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ صدر کے ترجمان نے تقریباً دو روز بعد ان سے منسوب بیان کی وضاحت اس وقت کی ہے جب مسلم لیگ (ن) نے اس بارے میں صدر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معاملہ پارلیمان میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔



















