سوات سے مزید دس لاشیں برآمد

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اطلاعات کے مطابق مزید دس نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ مقامی عسکریت پسند ہیں جنہیں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ کاروائی کے دوران مارا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں مینگورہ شہر کے نواحی علاقے نواں کلی میں دریائے سوات کے کنارے پڑی ہوئی ملیں۔
انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کو سروں اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔
تاہم دوسری طرف فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام جنگجو ایک کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔ سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کے مطابق بدھ کی رات عسکریت پسند دریا سوات عبور کر کے مینگورہ شہر کی جانب آ رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز نے ان پر حملہ کردیا جس میں دس جنگجو موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں چھ عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ہونے والوں میں طالبان کا ایک جاسوس امجد بھی شامل ہے جو ترجمان کے بقول فوج کے نقل وحرکت کے بارے میں طالبان کو آگاہ رکھتا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاشوں کو گنبد میرا سرکاری قبرستان لے جایا گیا ہے جہاں انہیں دفن کیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے نامعلوم لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اب تک تین سو کے قریب افراد کی لاشیں ملی چکی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ تمام عسکریت پسند تھے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد جب بھی سکیورٹی فورسز یا پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی حملہ ہوتا ہے اس کے دوسرے دن عسکریت پسندوں کی کئی لاشیں مل جاتی ہیں۔ان لاشوں کے حوالے سے اب تک حکومت کی طرف سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ہیو من رائٹس کمیشن آف نے سوات میں فوجی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کی کثیرالجماعتی پارلیمانی کمیٹی اور سول سوسائٹی کی مدد سے آزاد تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔



















