کوہاٹ میں خودکش دھماکہ، تینتیس ہلاک

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوگئے ہیں۔
زخمیوں کو کوہاٹ سول ہسپتال اور استررزئی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
<link type="page"><caption> خودکش حملے سے تباہی: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090918_pics_kohat_blast_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
جائے وقوعہ پر موجود ایک مقامی پولیس افسر علی حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہے خودکش دھماکہ جمعہ کو گیارہ بجے کوہاٹ سے قریباً سترہ کلومیٹر دور استررزئی کے کچہ پخہ چوک میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے خودکش حملہ آور کی گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ دھماکے کی جگہ پر ایک گہرا گڑھا بن گیا۔
پولیس حکام کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا تو کچہ پخہ چوک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ حکام کا یہ بھی کہا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کی زیادہ تر عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
حکام کے مطابق اس علاقے میں زیادہ تر دوکانیں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں سے بھی زیادہ کا تعلق اہل تشیع سے ہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ انہیں کچھ عرصے سے طالبان سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد محرم علی شاہ نے بتایا ’لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مدد نہیں پہنچی۔ آرمی کے کچھ اہلکار پہنچ گئے ہیں اور وہ لوگوں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دھماکے سے اردگرد کی دوکانیں مکمل طورپر زمین بوس ہوگئی ہیں اور ملبے کے نیچے لاشیں موجود ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ ملبے کے نتچے کتنے لوگ دبے ہوئے ہیں۔‘
لشکرِ جھنگوی العالمی نامی ایک تنظیم نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خود کو تنظیم کا ترجمان ظاہر کرنے والے عثمان حیدر نامی شخص نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حملہ ان کی تنظیم کے اہم رہنما مولانا امین کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اسررزئی کا علاقہ ضلع ہنگو کے سرحد پر واقع ہے جہاں پہلے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔



















