ہوٹل کی روشنیاں بحال مگر زندگیاں تاریک

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آْباد کے میریٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش بم حملے کو ایک سال بیت گیا ہے۔ ہوٹل کی تعمیر نو مکمل ہو چکی ہے۔ اس ٹرک حملے میں جل کر راکھ بننے والے اڑھائی سو کمروں کو نئے فرنیچر جبکہ ہوٹل کی لابی کی روشنیاں بحال کی جا چکی ہیں۔
لیکن اس حملے میں زخمی ہونے والے تئیس سالہ مبشر کی زندگی میں اب بھی اندھیر ہے۔ علاج کے باوجود ان کی بینائی نہیں لوٹ سکی۔
ایک برس قبل بیس ستمبر ہی کے دن مبشر ہوٹل کے فرنٹ آفس ڈیسک پر موجود تھے جب دھماکے سے اڑنے والے شیشوں کی کرچیاں ان کی آنکھوں میں لگیں۔ اگلے روز جب مبشر نے آنکھیں کھولیں تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
بیس ستمبر کی شام آٹھ بجے کے قریب اسلام آباد میریٹ کے صدر دروازے سے بارود سے بھرے ایک ٹرک نے ہوٹل کے اندر جانے کی کوشش کی اور ناکامی کی صورت میں ڈرائیور نے ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا۔
ہوٹل میں دھماکے سے لگنی والی آگ نے اس چار منزلہ ہوٹل کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا لیکن اگلے چند ماہ کے دوران انتظامیہ نے کروڑوں روپے کی لاگت سے اسے تیار تو کر لیا ہے لیکن اس پر مہمانوں کا اعتماد بحال نہیں ہوا۔
ہوٹل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق دھماکے سے قبل میریٹ کے کمروں کی بکنگ کا تناسب اسی فیصد سے زائد ہوتا تھا لیکن اس کے بعد ہوٹل کے بیس فیصد کمرے بھی مشکل ہی سے کرائے پر لگتے ہیں۔
اس بم حملے میں تریپن افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں مبشر علی بھی شامل تھے۔

’ہونٹوں کے علاوہ میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں شیشے کی ان کرچیوں نے زخم نہ لگائے ہوں۔ ان میں آنکھیں بھی شامل تھیں۔ دو روز بعد جب آنکھوں کی پٹی کھلی تو اسی وقت میں سمجھ گیا کہ اب شائد میں کبھی دیکھ نہ سکوں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راولپنڈی کے ایک نواحی گاؤں میں اپنے چھوٹے سے گھر میں بی بی سے کے ساتھ گفتگو کے دوران نوجوان مبشر نے الشفا ٹرسٹ کے آنکھوں کی سرجری کے شعبے کی سربراہ کی بات یاد کر کے ایک سرد آہ بھری۔’اس حادثے کو دو ماہ گزر چکے تھے جب میں نے اس ڈاکٹر سے پوچھا کہ کیا میں کبھی دیکھ سکوں گا؟ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا مجھے افسوس ہے مبشر لیکن آپ کی آنکھوں کے بیک لائٹ آف ہو گئی ہے۔‘
مبشر نے بتایا کہ ان کی ایک آنکھ تو مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے کیونکہ اس میں شیشے کے بڑے ٹکڑے لگے تھے جبکہ بائیں آنکھ میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہے۔ ’اس ایک آنکھ میں پانچ سے دس فیصد بینائی ہے جس کے ذریعے میں کچھ سائے حرکت کرتے یا روشنی کو محسوس کر سکتا ہوں لیکن یہ بینائی میرے لیے نارمل زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘
مبشر کو میریٹ ہوٹل میں نوکری اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے روز ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تین بھائیوں میں سب سے بڑا ہونے کے باعث کفالت کی ذمہ داری ان ہی کی تھی لیکن اس حادثے کے بعد وہ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ’میریٹ کی انتظامیہ کی مہربانی سے ابھی تک تو میری تنخواہ بھی مجھے مل رہی ہے اور علاج کا خرچ بھی ہوٹل انتظامیہ اٹھا رہی ہے لیکن کچھ یقین نہیں کہ یہ سلسلہ کب رک جائے۔‘
میریٹ میں ملازمت کے ساتھ مبشر اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھے اور ایم بی اے کی تیاری کر رہے تھے۔ ’اب تو جیسے زندگی رک سی گئی ہے۔ سارا دن بس یوں ہی بیٹھا رہتا ہوں۔ کبھی ٹیلی وژن دیکھ (سن) لیتا ہوں کبھی کوئی کرکٹ میچ ہو تو اس کی کمنٹری سن کر دل بہلا لیتا ہوں لیکن سوچتا ہوں کہ زندگی ایسے تو نہیں گزرے گی۔‘
مبشر نے بتایا کہ ان کی ایک ہی بہن تھی جس کی شادی ہونے کے بعد والدین کا میری شادی کے لیے اصرار بڑھ رہا تھا کہ میں شادی کر لوں۔ ’اپنے تایا کے گھر میری بات بھی پکی ہو چکی تھی، بلکہ ہے۔ وہ اپنی زبان سے نہیں پھرے لیکن اب میں سوچتا ہوں کے میں زندگی کے لوازمات پورے نہیں کر سکتا اس لیے مجھے اب شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اب میرے چھوٹے بھائی کی شادی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔‘
اس سوال پر کہ آپ کے خیال میں کہ یہ مصیبت آپ پر کیوں اور کس نے مسلط کی، مبشر نے کچھ توقف کے بعد کہا کہ گھوم پھر کر بات یہیں ختم ہوتی ہے کہ اپنا بویا کاٹا جا رہا ہے۔ ’ہماری حکومت نے اس وقت اس طرف سے آنکھیں بند کیے رکھیں جب ہمارے اردگرد مدرسوں میں دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی تھی۔ ایسا بھی سننے میں آتا ہے کہ سرکار ان لوگوں کی سرپرستی بھی کرتی رہی۔ یہ ہماری حکومت کی کمزوری ہے۔ ہماری قوم کی کمزوری ہے کہ ہم نے انہیں روکا نہیں۔‘



















