ممبئی حملہ:فردِ جرم اگلی سماعت پر

رحمان ملک
،تصویر کا کیپشنبھارتی عوام کو بتانا چاہتے ہیں ہم ان کے دوست ہیں:رحمان ملک
    • مصنف, ذیشان حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے ملزمان پر مقدمے کی آئندہ سماعت پر فردِ جرم عائد کر دی جائے گی۔

اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کے بعد وزارتِ داخلہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کافی نہیں تھیں تاہم اب تک ممبئی حملوں کے مقدمے میں سو سے زائد شہادتیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

خیال رہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے مقدمے سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے اور اس کی سماعت کی اگلی تاریخ چھبیس ستمبر ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان بھارت سے ان حملوں کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ یہاں چلایا جانے والا مقدمہ مضبوط ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت سے فورینزک ماہرین کی رپورٹ بھی مانگی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ممبئی حملوں سے جڑے بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلایا جا چکا ہے جبکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات عدالت کو فراہم کی جائیں گی۔

ممبئی حملوں کے حوالے سےگرفتار افراد کی تفصیل بتاتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اب تک سات افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے دو کو شرم الشیخ میں پاک بھارت سربراہ ملاقات کے بعد پکڑا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد میں ذکی الرحمان لکھوی، مظہر اقبال، عمر عبدالواجد، ضرار شاہ، شاہد جمیل ریاض، حماد امین صادق، جمیل احمد اور محمد یونس انجم شامل ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستان کو بھارت میں گرفتار کیے جانے والے فہیم انصاری نامی شخص کا وہ بیان موصول ہو چکا ہے جس میں حافظ سعید کا نام لیا گیا ہے اور اب حافظ سعید کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بھارت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے کی تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ کرے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی عوام کو بتانا چاہتے ہیں ’ہم ان کے دوست ہیں‘ اور پاکستان کے ممبئی حملوں کے اگلے ہی دن بھارت کو غیر مشروط حمایت کا یقین دلا دیا تھا۔ رحمان ملک نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشتگردی سے کس قدر متاثر ہوا ہے اور وہ دنیا کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ دہشتگردوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔