امن کمیٹی کے ارکان پر حملہ، نو ہلاک

پشاور ہسپتال
،تصویر کا کیپشنامن کمیٹی کے ارکان سواریوں کی گاڑی میں بنوں شہر جارہے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے طالبان مخالف جانی خیل امن کمیٹی کے ارکان پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بعض قبائلی سردار بھی شامل ہیں۔

بنوں کے ضلعی پولیس سربراہ اقبال مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح خیصور کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب دو گاڑیوں میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے طالبان مخالف جانی خیل امن کمیٹی کے ارکان پر فائرنگ کردی۔ امن کمیٹی کے ارکان سواریوں کی ایک گاڑی میں بنوں شہر جارہے تھے۔

پولیس سربراہ نے بتایا کہ فائرنگ سے امن کمیٹی کے چھ ممبران ہلاک ہوگئے جبکہ چار زخمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ سے لاشوں کو ان کے ورثاء لے کر جارہے تھے کہ اس دوران ان لوگوں پر نامعلوم مقام سے ایک بار پھر فائرنگ کی گئی جس میں ایک مزید شخص ہلاک ہوگیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چار لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں پہنچائی گئی ہیں جبکہ بعض لاشوں کو ان کے ورثاء نے جائے وقوعہ سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف منتقل کردیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں بعض قبائلی سردار بھی شامل ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے اس واقعہ میں عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا ہے۔

خیال رہے کہ تین ماہ قبل حکومت نے بنوں اور اس کے اطراف میں واقع نیم خود مختار قبائلی علاقے جانی خیل میں مقامی طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا تاہم بعد میں مقامی قبائل نے حکومت سے مزاکرات کیے اور ایک امن کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے شدت پسندوں کے خلاف خود کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین دہانی کے بعد حکومت نے آپریشن کرنے کا فیصلہ مؤخر کیا۔