ضمنی انتخابات کہاں کہاں

اس سے پہلے حقلہ این اے 123 اور این اے 55 میں ضمنی انتخابات متعدد بار ملتوی کیے جا چکے ہیں
،تصویر کا کیپشناس سے پہلے حقلہ این اے 123 اور این اے 55 میں ضمنی انتخابات متعدد بار ملتوی کیے جا چکے ہیں
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکشن کے مطابق قومی اسمبلی کی تین اور صوبہ پنجاب کی دو خالی نشستوں پر انتخابات کا انعقاد سات نومبر دو ہزار نو کو کیا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی کی تین خالی نشستوں میں سے دو پنجاب میں ہیں جہاں امیدواروں میں دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔

این اے 55

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی یہ نشست مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی حاجی پرویز خان کے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔ حاجی پرویز خان پر انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں جعلسازی کا الزام ثابت ہونے کے بعد ان کی جماعت نے ان سے استعفٰی لےلیا تھا۔

اس حلقے سے اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں جاوید ہاشمی نے سابق وزیر اطلاعات شیخ رشید کو شکست دی تھی اور بعد میں جب جاوید ہاشمی نے یہ نشست چھوڑ دی توضمنی انتخاب میں حاجی پرویز کامیاب ہوئے۔

اٹھائیس مئی کو الیکشن کمیشن نے حقلے میں چار جولائی کو انتخاب کروانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعد حکومت پنجاب کی جانب سے امن وامان کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست پر انتخاب ملتوی کر دیے گئے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اس حلقے سے امیدوار ہیں۔

این اے 123

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 123 لاہور کے اس حلقے سے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزا یافتہ ہونے کی بناء پر الیکشن کمیشن نے مسترد کرتے ہوئے اس حلقے میں الیکشن کا انعقاد روک دیا تھا۔اس کے بعد اعلان کردہ ضمنی انتخاب میں بھی اسی حلقے سے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

اس حلقے میں ضمنی انتخابات تیس جون کو ہونے تھے لیکن پنجاب حکومت کی درخواست پر الیکشن کمینش نے انتخاب ملتوی کر دیا تھا۔اس سے پہلے اسی حلقے میں وفاقی حکومت کی درخواست پر پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے احکامات پر انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔ سات نومبر کے انتخاب میں اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے تاحال اس حلقے سے کسی امیدوار کو مقابلے نہیں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

این اے 271

قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو اکہتر خاران کم واسک کم پنجگور میں دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں بلوچستان کے سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ عبدالقاد مسلم لیگ قاف کے رہنماء احسان اللہ رکی کے مدمقابل تھے۔ احسان اللہ کی جیت کے بعد جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے انتخابی نتائج کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اپیل کی تھی تاہم بعد میں الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا۔

پی پی 284

صوبہ پنجاب میں سے دو خالی نشستوں میں سے ایک پی پی دو سوچوراسی بہاولپور آٹھ فورٹ عباس ہے ۔ یہاں سے دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار محمد رؤف خالد منتخب ہوئے تھے۔ ان کی کامیابی کو سابق وزیر برائے مذہبی امور محمد اعجاز الحق نے لاہور ہائی کورٹ میں چینلج کیا تھا ۔ دس جون دو ہزار نو کو لاہور ہائی کورٹ نے محمد رؤف خالد کو نا اہل قرار دے دیا اور بعد میں ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

پی پی 82

پنجاب کی دوسری خالی نشست پی پی بیاسی جھنگ ہے۔ یہاں سے دو ہزار آٹھ کے عام انتخاب میں مسلم لیگ قاف کے رہنماء میاں محمد اعظم چیلا منتخب ہوئےتھے تاہم ان کی تعلیمی قابلیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ جس پر الیکشن کمیشن نے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری لگانے پر انہیں نا اہل قرار دیا۔ الیکشن کمیشن نے بعد میں یہاں ضمنی انتخاب کا اعلان کر دیا۔