پھولنگر: ملزمان کی گرفتاری کا حکم

پھولنگر کی متاثرہ خواتین
،تصویر کا کیپشنعہدے کے لحاظ سے وزیر اعلی لیکن میڈیا میں خود کو پنجاب کے خادم اعلی کہلانے والے شہباز شریف پانچ روز گذرجانے کے باوجود اس معاملے پر بالکل خاموش رہے۔
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پھولنگر
  • وقت اشاعت

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پھولنگر میں لگنے والی اس خود ساختہ عدالت کے ’نام نہاد ججوں اور جلادوں‘ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جنھوں نے تین عورتوں کو سرعام برہنہ کرنے کی سزا دی تھی۔

سرعام بے حرمتی کانشانہ بننے والی ان تین عورتوں کے علاوہ ایک تیرہ سالہ لڑکی بھی ’مقامی عدالت‘ کی کارروائی کا شکار ہوئی ہے۔یہ لڑکی شہناز عرف سراجو کی لے پالک بیٹی عاصمہ مشتاق ہے۔

شہناز بی بی اور اس کی مہمان عورتوں کو فاحشہ قرار دیکر مبینہ طورپر برہنہ گاؤں میں پھرانے والے مذہب کے علمبردار دار اعتراف کرتے ہیں کہ شہناز بی بی نے عاصمہ مشتاق کو اپنے معاملات سے دور رکھا ہواتھا۔ وہ سکول میں پڑھتی تھی اور دسویں کی طالبہ تھی۔

علاقے کی سابق کونسلر شہناز بی بی جب میڈیا کو اپنا زخموں اور نیل سے بھرا منہ اور ادھ منڈا سردکھاتی ہیں تو ساتھ ہی دہائی دیتی ہیں کہ اس کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی اغوا کرلیا گیا ہےجس کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔

کسی بھی عورت کوسرعام ننگا کرنے اور اس کی کم سن بچی کو اغوا کرنے جیسی سزا کوئی مفاد پرست ٹولا تو دے سکتا ہے لیکن کسی بھی مذہب میں اس طرح کی سزاؤں کی گنجائش کم از کم میرے محدود علم کے مطابق تو نہیں ہے۔

قرون وسطی کی ایسی عوامی عدالتوں کےبارے میں البتہ ضرور سنا ہے جو طوائفوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں پھانسی دیکر یا زندہ جلاکر ماردیا کرتے تھے۔اس زمانے کے نام نہادخدائی فوجداروں کےخیال میں دنیا میں آنے والی وباؤں کاسبب وہ خواتین ہوتی تھیں جو مذہبی پیشواؤں کےاحکامات نہیں مانتی تھیں لیکن یہ کوئی کم از کم چھ سو برس پرانی بات ہوگی۔اس دور کو متفقہ طور پر یورپ کا زمانۂ جہالت کہا جاتاہے۔

اسی دورجہالت میں قوم پرست فرانسیسیوں نے اپنی انیس سالہ جنگجوہیروئن جون آف آرک کو پادریوں کے حوالے کردیاتھا جنہوں نے اسے بھی اپنے خودساختہ قوانین کی بھینٹ چڑھا دیاتھا۔

لیکن یہ پندرھویں صدی نہیں ہے،عاصمہ مشتاق کوئی ایسی جنگجو بھی نہیں ہے جس کے ساتھ کوئی الہامی یا آسیبی طاقتیں تھیں اورجن کی بنیاد پر اسے جادوگرنی قرار دیا جاتا۔اس نے کسی مخالف فوج کو زیر بھی نہیں کیاتھا کہ کسی کی اس سے اتنی گہری دشمنی ہوتی۔

عاصمہ کے تو دشمن بھی اسے پاکباز اور معصوم قرار دیتے ہیں۔وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اسے اپنی لے پالک بیٹی بنالینے والی شہناز عرف سراجو جتنی بھی بری ہو اس نے عاصمہ کو گناہ کی راہ پر نہیں ڈالا۔خود ان کے بقول اس نے جو بھی کمایا،جائز یا ناجائز طریقے سے، اسے عاصمہ کا جہیز بنانے پر لگا دیا۔

جہیز اکٹھا کرنے کا کم از کم ایک مطلب صاف ہے کہ اسے گود لینے والی شہناز عرف سراجو اگر پیشہ ور بھی تھی تو بھی وہ کم از کم اس لڑکی کو ایک باعزت زندگی دینا چاہتی تھی جو اس کے اپنے بطن سے تو پیدا نہیں ہوئی لیکن اس نے گود ضرور لی تھی۔

دوسری طرف اسی گاؤں کے وہ لوگ ہیں جو اصلاح معاشرے کےنام پر اس لے پالک بچی کے جہیز کا جمع شدہ سامان لوٹ کر لے گئے۔ہمسایہ ماسٹر حنیف کے بقول جہیز کا سامان کم از کم پانچ لاکھ روپے مالیت کاتھا۔

ضلع قصورکے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس جاوید سے بھائی پھیرو کی پولیس چوکی جمبر میں ملاقات ہوئی تو انہوں نےکسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ تو کہہ دیاکہ تشدد کا نشانہ بننے والی عورتیں ’فاحشہ‘ ہیں لیکن وہ تیرہ سالہ عاصمہ کے اغوا،اس کی منہ بولی ماں سمیت تین عورتوں پر تشدد اور ان کے گھر میں لوٹ مار کے مقدمے کے اندراج کے لیے گواہوں اور ثبوتوں کے محتاج تھے۔

یہ گواہ اور ثبوت انہیں لاہور ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس لینے تک نہیں ملے تھے شاید اسی لیے مقدمے کے اندراج کے لیے انہیں چیف جسٹس ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کرنا پڑا۔

عہدے کے لحاظ سے وزیر اعلی لیکن میڈیا میں خود کو پنجاب کے خادم اعلی کہلانے والے شہباز شریف پانچ روز گذرجانے کے باوجود اس معاملے پر بالکل خاموش رہے۔

عورتوں کو برہنہ کرنے اور نوعمر لڑکی کے اغوا کا یہ واقعہ ’خادم اعلی‘ کی نامزدگی سے پنجاب کے سپیکر بننے والے ان کے قریبی ساتھی سیاستدان رانا محمد اقبال کے حلقہ انتخاب میں پیش آیا۔ تیرہ برس کی لڑکی تادم تحریرلاپتہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی بھائی چارہ اور علاقائی مصلحتیں ،سچ اور انصاف سے بھی بالاتر ہوتی ہیں؟