’ڈرون حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

ڈرون
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں ساٹھ ہزار مدارس موجود ہیں، جن میں دینی تعلیم دی جا رہی ہے مگر ان میں کسی میں بھی اسامہ بن لادن یا ملا عمر نہیں رہتے اور نہ ہی وہ بلوچستان میں موجود ہیں: صوبائی وزیر
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے صوبے میں ڈرون حملے کیے گئے تو اس کامنہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کی شام کراچی میں امریکی قونصل جنرل سٹیفن فیکن کی جانب سے واشنگٹن جانے والے باون پاکستانی طالب علموں کو دیے گئے استقبالیے سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ساٹھ ہزار مدارس موجود ہیں، جن میں دینی تعلیم دی جا رہی ہے مگر ان میں کسی میں بھی اسامہ بن لادن یا ملا عمر نہیں رہتے اور نہ ہی وہ بلوچستان میں موجود ہیں۔

شفیق احمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات پہلے ہی خراب ہیں اور اگر ڈرون حملے ہوئے تو اس سے یہ مزید سنگین ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا: ’ایک امریکی سفیر (اسلام آباد میں امریکی سفیر) نے یہ بات کی ہے اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ قونصل جنرل کو وہ اپنا پیغام پہنچا دوں۔‘

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ امریکہ بہتر تعلیم کی بات کر رہا اور پاکستان سے برادارانہ تعلقات بنا رہا ہے لیکن دوسری جانب ڈرون حملوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اس سے تعلقات خراب ہوں گے۔ ’ایسی کوشش کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘۔

کراچی میں امریکی قونصل جنرل سٹیفن فیکن نے اپنی تقریر میں طالب علموں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ای ڈی لنکس پروگرام منتخب طالب علموں میں سے ہر ایک کو مخلوط سماجی ہم آہنگی اور علم سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں ان طالب علموں میں سے ہر ایک فخر سے اور موثر انداز میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا اور وہاں ملنے والے امریکی طالب علموں اور اساتذہ سے مفید دوستیاں استوار کریں گے۔

دوسری جانب سفارتخانےکے ایک اعلامیے کے مطابق اے ڈی لنکس ہر سال منتخب طالب علموں اور اساتذہ کو مختصر دورانیے کے پروگرام کے لیے امریکہ بھیجتا ہے۔ یو ایس ایڈ کی مدد سے چلنے والے اس پروگرام کا مقصد سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور دیگر علاقوں کے منتخب اضلاع کے مڈل اور ہائی سکولوں میں معیار تعلیم بہتر بنانا ہے۔ اس سال واشنگٹن جانے والے طالب علموں میں اکثریت سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔