وزیرستان: تحریکِ طالبان کے خلاف تیاری

ملا نذیر
،تصویر کا کیپشناحمد زئی وزیر قبائل کے قومی جرگے کو طالبان جنگجو مُلا نذیر کی حمایت بھی حاصل ہے۔
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمد زئی وزیر قبائل کے قومی جرگے نے پولیٹکل انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدہ برقرار رکھنے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ قومی جرگے کو طالبان جنگجو مُلا نذیر کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو صدر مقام وانا کی پولیٹکل کچہری میں احمدزئی وزیر قبائل کے ایک قومی جرگے نے حکومت کے ساتھ امن و امان برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں ایک سو بیس قبائلی عمائدین اور علاقے کے علما کرام شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ احمدزئی وزیر قبائل سے کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا ہے بلکہ دو ہزار سات میں ہونے والے امن معاہدہ میں توسیع کی گئی ہے۔ جرگے میں شامل عمائدین کہنا تھا کہ جرگے نے حکومت کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔

اس امن معاہدے سے پہلے وانا میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی نذیر کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ عمل میں آیا لیکن چار ماہ قبل وزیرستان میں جاری ڈرون حملوں کے نتیجہ میں ملا نذیر نے امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

وانا میں گزشتہ ایک سال سے امن و امن کی وجہ سے ریاستی ذمہ داریاں پولٹیکل انتظامیہ نے سنبھال رکھی ہیں۔ اب وانا میں فوج سمیت تمام سرکاری اہلکار اپنے اپنے دفاتر اور بیرکوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیرقبائل سے امن معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت نے وزیرستان میں ہی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔