نیٹو سپلائی حملوں کا اہم ملزم گرفتار

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنماضی میں کیے گئے حملوں کے دوران اتحادی افواج کےلیے بھجوائی جانے والی سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں، کنٹینرز اور آئل ٹینکرز تباہ کیے گئے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے پہلی مرتبہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے سامان رسد لے جانے والے قافلوں پر حملوں میں ملوث کینگ کے ایک اہم ملزم کو حراست میں لینے کا دعوٰی کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے افغانستان میں خدمات سرانجام دینے والے فوجی افسران اور اہلکاروں کو عطا کیے جانے والے جنگی تمغوں سمیت بڑی تعداد میں امریکی سازوسامان برآمد کیا گیا ۔

پشاور پولیس کے ایک اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ پشاور کے نواحی علاقے اچینی میرہ میں شرپسندوں کا ایک گروہ شرپسندی کی وارداتوں کےلیے مالی وسائل کی غرض سے اغواء برائے تاؤان اور نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے قافلوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح پولیس کی بھاری نفری نے اچینی میرہ میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا جہاں فائرنگ کے تبادلے کے بعد ملزم حکم خان ولد سیال خان کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق تلاشی کے دوران ٹھکانے سے افغانستان میں تعینات اتحادی اور امریکی افواج کےلیے سامان کے ٹرمینلز پر حملوں کے دوران لوٹے گئے سامان کی بڑی تعداد برآمد کی گئی جن میں اتحادی افواج کو بھجوائے جانے والے جنگی تمغے، طیاروں اور ٹینکوں میں استعمال ہونے والا سازو سامان اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پشاور پولیس نے نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے سامان رسد سپلائی والے قافلوں پر حملے کرنے والے کسی ملزم گو گرفتار کیا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف بر سربیکار اتحادی اور نٹیو افواج کو پاک افغان شاہراہ طورخم کے راستے رسد کی سپلائی منقطع کرنے کے لیے گزشتہ سال کے وسط سے پشاور میں رنگ روڈ پر واقع کنٹینرز ٹرمینلز اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں گاڑیوں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ان حملوں کے دوران اتحادی افواج کےلیے بھجوائی جانے والی سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں ، سازوسامان سے بھرے کنٹینرز اور آئل ٹینکرز تباہ کیے گئے ہیں۔ ان میں بعض حملوں کی ذمہ داری بیت اللہ محسود گروپ کے طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔