کوئٹہ شوریٰ کا کوئی وجود نہیں: شاہ محمود

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا ہے کہ کوئٹہ شوریٰ کے حوالے سے ناموں کی جو فہرست دی گئی تھی ان میں سے بعض یا تو ہلاک ہو چکے ہیں یا پھرافغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔
یہ بات وزیر خارجہ نے لاس اینجلس ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اب کوئٹہ شوریٰ کا کوئی وجود نہیں۔‘
شاہ محمود قریشی جو اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اور عسکری ادارے ’جن پر اکثر شدت پسندوں کے ساتھ رابطوں کا الزام لگایا جاتا ہے، کو شدت پسندی سے نمٹنے کےلیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔
لاس اینجلس ٹائمز کے صحافی کے اس سوال پر کہ امریکی حکام یہ الزام لگاتے ہیں کہ بلوچستان طالبان کے لیے جنت بنا ہوا ہے اور وہاں طالبان کے خلاف وہ کارروائی نہیں کی جا رہی جو ضروری ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم اس بارے میں کئی سالوں سے سنتے آرہے ہیں۔ کوئٹہ شوریٰ میں کون لوگ شامل ہیں؟ اس کی فہرست ہمیں فراہم کی گئی تھی اور ہم نےاس بارے میں کافی کام کیا جس کے نیتجے میں ہمیں پتہ چلا کہ جن شخصیات کے نام فراہم کیے گئے تھے ان میں سے بعض یا تو ہلاک ہو چکے ہیں یا پھرافغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔‘
’اگر آپ کو اب بھی شک ہے تو اس بارے میں کھل کر بات کریں۔ ہم دوست ہیں اوراتحادی ہیں لہٰذہ ہمیں ایک دوسرے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ مغربی اخبارات دی نیویارک ٹائمز اور ٹیلیگراف لندن نےبھی کچھ خبریں شائع کی تھیں جن کے مطابق امریکی حکام بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو طالبان کا مرکز قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کوئٹہ شوریٰ کے نام سے ایک باقاعدہ کابینہ ہے جس کی قیادت ملا عمر کرتے ہیں اور جنوبی افغانستان میں طالبان کارروائیوں کو منظم کرتے ہیں۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل میکرسٹل کی ایک رپورٹ، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے اب بھی شدت پسندوں کو امداد فراہم کررہے ہیں، کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عسکری و خفیہ ادارے سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں۔ لہٰذہ امریکہ کو پہلے یہ طے کر لینا چاہیے کہ آیا وہ آئی ایس آئی کو ایک دوست کے طور پر دیکھتی ہے یا دشمن۔ اور اگر آپ اس ادارے کو ایک دوست پر دیکھتے ہیں تو اس پر الزامات کا سلسلہ بند کر کے اس کے مثبت کردار کو تسلیم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے اور ہم اس حوالے سے رائے سننے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جہاں تک آئی ایس آئی کی فوجی قیادت کا سوال ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے پاس ان سے بہتر لوگ موجود ہیں اور اگر آپ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو۔۔۔۔۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ چاہتا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے فوری بعد پاکستان کی فوج وہاں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردے تاہم پاکستان کی حکومت اس حوالے سے تذبذب کا شکار تھی؟ اس سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سے انکار نہیں کیا۔تاہم وزیرستان میں بھر پور کارروائی کرنے کا وقت ہمیں طے کرنے دیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم آپ کے اتحادی ہی، آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔
وزیرستان میں کارروائی میں تاخیر کی وجہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ ’ہم نے آپ کے تجربات سے سیکھا جب امریکہ نے جنوبی افغانستان میں داخل ہو کر وہاں سے طالبان کا صفایا کردیا تاہم جونہی امریکی فوج واپس آئی طالبان دوبارہ وہاں آگئے۔ ہماری حکمت عملی زیادہ مؤثر ہے کیونکہ سوات سے طالبان کا صفایا کرنے کے بعد بھی ہماری فوج وہاں موجود رہے گی جب تک وہاں سول انتظامیہ اس قابل نہ ہوجائے کہ وہ امن عامہ کی صورتحال برقراررکھے۔ دوسری طرف ہم قبائلی علاقوں میں بھی داخل ہو چکے ہیں اور ہم اس کارروائی کو جاری رکھیں گے۔‘
ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔اور میں بھارت کو بھی یہ پیغام دے چکا ہوں کہ ممبئی حملوں سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ اس کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے۔
افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں پر پاکستان کے شکوک و شبہات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’ان کو اپنے مفادات کو واضح کرنا ہوگا۔ بھارت اورافغانستان کی کوئی سرحد مشترک نہیں جبکہ پاکستان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف اگر دہلی میں کابل سفر کرنے والوں کی لمبی قطاریں نہیں لگی ہوئیں تو پھر افغانستان میں بھارت اتنے بڑے پیمانے پر کیوں سرگرم ہے؟ یہی بات ہمیں تشویش میں مبتلا کرتی ہے۔‘



















