امداد نہیں انصاف چاہیے:گوجرہ متاثرین

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
- وقت اشاعت
پنجاب کے شہر گوجرہ میں مسیحی بستی پر ہونے والے حملے کے متاثرین نے اجتجاج کرتے ہوئے امداد لینے سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں امداد نہیں بلکہ انصاف چاہئے۔
متاثرین نے یہ احتجاج گوجرہ میں سمندری روڈ پر واقعہ اس کیتولک گرجا گھر میں کیا جہاں یو ایس ایڈ کی طرف سے امریکی قونصیلٹ جنرل لاہور کی پرنسپل سیکرٹری کارمیلا کورنائی نے متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کرنا تھا۔پاکستان مینارٹی ڈیموکرٹیک موومنٹ کے سربراہ عاطف جمیل نے بتایا کہ امدادی سامان کی تقسیم کے موقع پر گرجا میں موجود افراد نے اس بات پر احتجاج کیا کہ سانحہ گوجرہ کے ملزموں کو گرفتاری نہیں کیا جارہا اس لیے انہیں انصاف چاہئے۔
خیال رہے کہ دو ماہ قبل گوجرہ میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر مسیحوں کی بستی پر حملہ کرکے ان کے گھر کو آگ لگادی گئی تھی اور ان پرتشدد واقعات میں ایک ہی خاندان کے سات مسیحی افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ان پرتشدد واقعات کے بعد بستی میں رہنے والے ان متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے امداد فراہم کی جارہی ہے اور گوجرہ گرجا گھر میں ہوئے تقریب بھی امدادی سامان کی فراہمی کی ایک کڑی تھی۔
عاطف جمیل کا کہنا ہے کہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب تقریب میں امریکی قونصیلٹ کی خاتون آفیسر نے خطاب کے بعد امدادی سامان تقسیم کرنا شروع کیا اور الماس حمید نامی اس شخص کو امدادی سامان کی وصولی کے لیے بلایا گیا جس کے سات قریبی رشتہ دار پرتشدد واقعہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ الماس حمید نے امریکی قونصیلٹ کی خاتون آفیسر سے کہا کہ انہیں انصاف کی ضرورت ہے اور سامان کی جگہ ملزموں کو گرفتار کیا جائے ۔
اسی دوران تقریب میں موجود افراد نے افراد نے نعرے لگائے کہ ْ ْ سامان نہیں بلکہ انصاف چاہئے ْ ْ اور متاثرین نے پلے کارڈز اور بینرز بھی لہرائے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔
الماس حمید کے بھائی شہباز مسیح نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کے احتجاج کرنے پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا اور اس تمام کارروائی کے دوران ان کے بھائی اور دیگر متاثرین نے امدادی سامان موصول کرنے سے انکار کردیا ۔
پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج ہونے پر بعض متاثرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اس امدادی سامان کو بھی نقصان پہنچایا جو متاثرین میں تقسیم کیا جانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان مینارٹی ڈیموکرٹیک موومنٹ کے سربراہ عاطف جمیل نے بتایا کہ مقامی پولیس اسٹیشن میں ان پولیس اہلکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دی ہے جنہوں نے گرجا گھر میں پرامن احتجاج کرنےوالے مسیحوں پر لاٹھی چارج کیا جس کی وجہ سے دو خواتین بھی زخمی ہوگئیں۔
سانحہ گوجرہ کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمان پر مشتمل یک رکنی کمیشن عدالتی تحقیقات کررہا ہے اور عاطف جمیل کے بقول کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران متاثرین سمیت دیگر افراد اور حکام کے بیانات قلمبند کیے ہیں تاہم ابھی کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔



















