کئی وزراء کا اثاثے ظاہر کرنے سےگریز

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو بھی گوشوارے جمع نہ کرانے والوں میں شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو بھی گوشوارے جمع نہ کرانے والوں میں شامل ہیں
    • مصنف, شہزار ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سینیٹ، قومی اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تین سو انچاس ارکان کی فہرست جاری کردی ہے جنہوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دی جانے والی تاریخ پر اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

منگل کے روز الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق سینیٹ کے گیارہ، قومی اسمبلی کے ایک سو پانچ، پنجاب اسمبلی کے ایک سو پینتالیس ، سندھ اسمبلی کے تینتیس، سرحد سے پینتیس اور بلوچستان کے بیس، ارکان اسمبلی شامل ہیں۔ سینیٹ کے ایک سو ارکان میں سے نواسی نے اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروادیئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس ارکان میں سے دو سو چونتیس ارکان نے اپنے گوشوارے جمع کروادیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جن ارکان پارلیمنٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی نے پندرہ اکتوبر تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کروائے تو اُن کی رکنینت معطل کر دی جائے گی۔

جن افراد نے ابھی تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے اُن میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی شامل ہیں جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر تجارت مخدوم امین فہیم، وزیر پیدوار منظور احمد وٹو ، وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف، بہبود آبادی کی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سرحدی امور کے وزیر نجم الدین خان، وزیر مزہبی امور حامد سعید کاظمی ، انسانی حقوق کے متعلق وفاقی وزیر ممتاز عالم گیلانی، پیٹرولیم اور نجکاری کے وفاقی وزیر سید نوید قمر اور مواصلات کے وزیر عالمگیر خان، وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی، مواصلات کے وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ، اطلاعات کے وزیر مملکت صمصام بخاری کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب بھی شامل ہیں۔

سابق صدر فاروق لغاری بھی اُن ارکان پارلیمنٹ میں شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی اہلیہ اور رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفحانی بھی شامل ہیں۔

جن ارکان قومی اسمبلی نے ابھی تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے اُن میں ذیادہ تعداد کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز ہے۔ ان میں تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی، تجارت کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین خرم دستگیر خان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر بھی شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے تین سو اکہتر ارکان ہیں جن میں سے دو سو تیئس ارکان نے اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن کو جمع کروادیئے ہیں۔ ایک سو پینتالیس ارکان جنہوں نے ابھی تک اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے اُن میں زیادہ تعداد کا تعلق صوبے کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے ہے جبکہ سندھ کے ایک سو اڑسٹھ ارکان میں سے ایک سو پینتس نے اپنے گوشوارے جمع کروادئے ہیں جبکہ اس اسمبلی کے تینتس ارکان میں زیادہ کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جنہوں نے ابھی تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

صوبہ سرحد کی اسمبلی کے ایک سو چوبیس ارکان میں سے نواسی نے اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروائے ہیں اور جن پینتس ارکان نے ابھی تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے اُن میں سے زیادہ کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

بلوچستان کی اسمبلی جو پینسٹھ ارکان پر مشتمل ہیں اُن میں سے پینتالیس افراد نے اپنے گوشوارے جمع کروائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں ارکان کی تعداد ایک ہزار ایک سو ستر ہے جن میں سے آٹھ سو پندرہ افراد نے اپنے گوشوارے جمع کروائے ہیں۔