’جان کو خطرہ، پولیس سکیورٹی فراہم کرے‘

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ایک سابق جج نے بعض کالعدم شدت پسند تنظیموں کی طرف سے مبینہ طور پر سنگین دھمکیاں ملنے کے بعد پولیس حکام سے درخواست کی ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔
حق نواز بلوچ سنہ دو ہزار دو سے دو ہزار آٹھ تک خصوصی عدالت کے جج رہ چکے ہیں اور اس عرصے میں کراچی میں قائم امریکی قونصل خانے پر خودکش حملے اور مساجد اور امام بارگاہوں پر بم دھماکوں اور دہشتگردی کے متعلق دوسرے کئی سنگین مقدمات سنے اور ان میں سزائیں سنائیں۔
تاہم ستمبر سنہ دوہزار آٹھ میں انہیں ملازمت سے فارغ کردیاگیا تھا جس کے خلاف انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔انہوں نے اپنی برطرفی کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ 2008ء میں ان کا کراچی سے تبادلہ کرکے بدین میں تعینات کردیا گیا تھا لیکن بدین میں خصوصی عدالت کے لیے پہلے سے کوئی عمارت موجود تھی اور نہ ہی انہیں رہائش گاہ فراہم کی گئی تھی جس پر انہوں نے تحریری طور پر وزارت داخلہ کے حکام کو آگاہ کردیا تھا۔ بعد میں حکومت نے ان کی برطرفی کا حکم جاری کردیا جس میں کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی تھی۔
حق نواز بلوچ ملازمت سے فارغ ہونے کے فوری بعد اپنے اہل خانہ سمیت امریکہ چلے گئے تھے اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست دے دی تھی لیکن ان کے بقول چھ مہینے تک اس کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے انہوں نے کہا کہ انہیں سنہ دو ہزار چار میں ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط ملے تھے جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر پولیس اور رینجرز کے اضافی اہلکار ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے لیکن برطرفی کے بعد انہیں ہٹادیا گیا تھا۔’(برطرفی کے بعد) میری سکیورٹی واپس لے کر انہوں (حکام) نے مجھے اور میرے گھر والوں کو تن تنہا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد میرے پاس ملک چھوڑنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انہیں بعض ذاتی وجوہات کی بناء پر پاکستان واپس آنا پڑا ہے لیکن وطن واپسی کے بعد سے ذاتی سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے گھر تک محدود ہیں۔
’یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میں ملیر کینٹ میں رہتا ہوں ورنہ تو میرے لیے گھر سے باہر نکلنا بھی بہت مشکل ہوتا لیکن کینٹ سے باہر میں نہیں جاسکتا اور بچوں کو بھی سکول بھیجتے وقت خوف آتا ہے اس لیے ان کے ساتھ بھی ایک دو آدمی ساتھ بھیجنا پڑتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ صلاح الدین بابر خٹک کو خط لکھ کر پولیس سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے (دہشتگردی کے مقدمات میں) سزائیں سنائی تھیں ان کے جو ساتھی ہیں وہ مجھے بار بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں فون کالز کے ذریعے بھی اور خطوط لکھ کر بھی جس کی وجہ سے میری جان کو خطرہ ہے اور میرے بچوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ ہے اسی لیے میں نے آئی جی صاحب سے یہ درخواست کی ہے۔‘
اس بارے میں پولیس حکام کی رائے معلوم کرنے کے لیے آئی جی پولیس سندھ اور ایڈیشنل آئی جی پولیس (آپریشن) خواجہ سلطان سے رابطے کی کوشش کی لیکن بات نہیں ہوسکی۔



















