سوات: فضل اللہ کا ساتھی کمانڈر ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو مطلوب طالبان کے ایک اہم کمانڈر نثار عرف غازی لالہ اپنے ساتھیوں سمیت ایک کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکومت نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کمانڈر کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔
سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح تحصیل مٹہ کے علاقے وادی بہہ میں پیش آیا۔
ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ مٹہ میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر نثار عرف غازی لالہ سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ تاہم اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔ ان کے بقول کارروائی میں کمانڈر کے ایک بیٹے کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہلاک ہونے والے کمانڈر کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق کاروائی میں طالبان کمانڈر کے تین ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔
کمانڈر نثار کا تعلق شور پیوچار سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا شمار سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور مٹہ کے کمانڈر ابن امین کے اہم ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ریموٹ کنٹرول بم بنانے کے ماہر تھے۔ ان کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ پانچ ماہ قبل سرحد حکومت نے ایک اشہتار جاری کیا تھا جس میں سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سمیت طالبان کے اہم ترین اکیس کمانڈروں کی سروں کی قیمتیں مقرر کی تھیں۔ اشتہار میں زیادہ تر کمانڈروں کی تصویریں بھی دی گئیں تھیں۔
ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا کہ قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو مطلوب طالبان کے ضلع ہنگو کے کمانڈر شاہنواز سمیت چھ طالبان جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنٹرل کُرم ایجنسی کے پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ طالب کمانڈر شاہنواز اور ان کے چھ ساتھیوں کی لاشیں کُرم اور ہنگو کی سرحد پر واقع کُرت کے علاقے سے ملی ہیں۔ ایک اہلکار کے مطابق انہیں صرف اتنی اطلاع دی گئی ہے کہ کُرت میں چھ لاشیں پڑی ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہورہا کہ انہیں کس نے اور کیوں قتل کیا ہے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیت اللہ محسود گروپ کے ضلع ہنگو کے کمانڈر شاہنواز اور ایک اور اہم جنگجو حافظ کمال بھی شامل ہیں۔
کُرت کے ایک مقامی ملک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کی بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے سبھی طالبان جنگجو ہیں جن میں سے بعض کو گلا کاٹ کر ہلاک کیاگیا ہے۔
کمانڈر شاہنواز کا تعلق کُرم اور ہنگو کی سرحد پر واقع چپری نایاب سے ہے اور وہ کئی وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ہنگو پولیس کو مطلوب بھی تھے۔ چند روز قبل دوآبہ کے علاقے میں سکیورٹی قلعہ پر حملے اور صحت کے بنیادی مرکز کو بموں سے اڑانے کے بعد سکیورٹی فورسز نے چپری نایاب میں ان کے مکان کو مسمار کردیا تھا۔
کُرم ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور ضلع ہنگو میں بعض طالبان گروپ دو سال سے سرگرم عمل ہیں جن کےخلاف مختلف مواقعوں پر فوجی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں تاہم ا س کے باوجود ان کی قوت میں مبینہ طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہاں پر ماضی میں مختلف طالبان گروپوں کے درمیان آپس میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جس میں کئی جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔



















