کیری لوگر بل: ’الزامات الزامات نہیں رہے‘

ہمارے ملک کے لیے ایک اضافی قدغن لگادی گئی ہے: بلال صوفی
،تصویر کا کیپشنہمارے ملک کے لیے ایک اضافی قدغن لگادی گئی ہے: بلال صوفی
    • مصنف, رفیعہ ریاض
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

بین الاقوامی قانون کے ماہر ایڈووکیٹ احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے بھارت اور پاکستان اور دوسری طرف امریکہ اور پاکستان کے درمیان متنازعہ سیاسی پوزیشنز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے یعنی کہ جو اعتراضات پہلے الزامات کی شکل میں سامنے آتے تھے اب ان کی باقاعدہ تحریری توثیق کر دی گئی ہے۔

اس سوال پر کہ کیری لوگر بل کے حوالے سے آرمی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے کے جواب میں احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ان اعتراضات کی وجہ یہ ہے کہ اس بل کے ذریعے بھارت کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جو فوجی امداد پاکستان کو مہیا کی جاتی ہے اس کے لیے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے این او سی لی جاتی ہے جن میں مختلف ممالک فلپائن، سوڈان اور پاکستان شامل ہیں۔ ’اب ہمارے ملک کے لیے ایک اضافی قدغن لگادی گئی ہے جس کے بعد اب ایک سیکریٹری آف سٹیٹ سے سرٹیفیکیشن ضروری ہوگی۔ ایک طرف پاکستان اتحادی ہے اس طرح اس کے لیے چیزیں آسان کرنے کی بجائے ایک اضافی بوجھ ڈالنے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔‘ بین الاقوامی قانون کے تھنک ٹینک ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لاء کے سربراہ صوفی نے کہا کہ کسی بھی رائے کو جب قانونی شکل دے دی جاتی ہے تو وہ اس ریست کی آپ کے حوالے سے حتمی رائے قرار دے دی جاتی ہے۔ ’لہٰذہ مستقبل میں یہ قانونی نقطہ آپ کے خلاف مسلسل استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس بل میں کچھ ایسی شقیں آگئی ہیں جو کہ پاکستان کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ’مثال کے طور پر انڈیا کہتا ہے کہ جماعت الدعوۃ کا تعلق القاعدہ سے ہے اور یہ تنظیم کشمیر میں بھی موجود ہے۔ اب تک تو یہ انڈیا کا موقف تھا، تاہم اگر انڈیا یہ تعلق ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا فائدہ انڈیا کو یہ ہوگا کہ وہ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ اس تنظیم کا وجود کشمیر میں بھی ہے۔ لہٰذہ کشمیر میں بھارتی فوج کے سارے ایکشن حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی بجائے انسداد دہشت گردی کے زمرے میں لاکر ان کو مکمل تحفظ مل جائے گا۔ جس سے کشمیر تحریک کو نقصان پہنچےگا۔‘

ایڈووکیٹ صوفی کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں لکھا ہوا کہ پاکستان آرمی اور خفیہ ایجنسیاں سرحد پار دہشتگردی میں ملوث تنظیموں کو امداد فراہم کرر ہی تھیں اور یہ عمل اب روک دیا جائے۔ ’لہٰذہ اب تک یہ الزام تھا لیکن اب اس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے یعنی جب اسے قانونی شکل دے دیتے ہیں تو اس کے بعد آپ اس پر بحث نہیں کر سکتے اور اس کی بنیاد پر ایکشن لیے جا تے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں یہ بھی طے کر لیاگیا ہے کہ پاکستان میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں حکومت کی کوئی عملداری نہیں، جب اس بات کو قانون میں طے کر لیا جاتا ہے تو کوئی بھی ملک اس خطے پر سرجیکل سٹرائیک کر سکتا ہے۔ ’اور وہ اس عمل کا دفاع بھی کر سکتا ہے جیسے کہ وزیرستان میں کچھ وقت سے ہو رہا ہے۔‘