جموں کا راستہ: خالی کنستروں، کرنٹ بھری خاردار تار

سیالکوٹ اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جموں سیکٹر کے درمیان یہ ایک سوستانوے کلومیٹر لمبا علاقہ سرحدی کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنسیالکوٹ اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جموں سیکٹر کے درمیان یہ ایک سوستانوے کلومیٹر لمبا علاقہ سرحدی کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
  • وقت اشاعت

سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان واقع ورکنگ باؤنڈری کےدورے کےدوران میں جب میں ایک سرحدی چیک پوسٹ میں داخل ہوا تو پاکستان رینجرز کا جوان رائفل کی نالی انڈیا کی جانب کیے لبلبی پر انگلی رکھے مستعد کھڑا ملا۔

ورکنگ باؤنڈری پر لگی بھارتی خاردار باڑ کا گیٹ کھلا ہوا تھا، پاکستانی اور ہندوستانی کسان کھیتی باڑی میں مصروف تھے۔ قریب ہی پاکستان رینجرز کےدوگھڑ سوار گشت کررہے تھے۔

پاکستان کے علاقے سیالکوٹ اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جموں سیکٹر کے درمیان یہ ایک سوستانوے کلومیٹر لمبا علاقہ آج کل دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے اورایک سے زائد مرتبہ پاکستان رینجرز اور انڈین باڈر سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوچکا ہے۔

بھارت اسے بین الاقوامی سرحد جبکہ پاکستان اسے ورکنگ باؤنڈری قرار دیتا ہے کیونکہ پاکستان کے سرحد کے اس پار جموں کے علاقے پاکستانی حکام کے بقول متنازعہ ہے۔ ورکنگ باؤنڈری کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر بھی تعینات ہیں۔

بھارتی بی ایس ایف نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ ان کے دو اہلکار فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں اور پاکستان کی جانب سے راکٹ بھی فائر کیا گیا جبکہ پاکستان رینجرز کا کہنا ہے کہ بھارتی فائرنگ سے دو پاکستانی دیہاتی زخمی ہوئے ہیں اور لوگوں کے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

ورکنگ باؤنڈری کنستروں کی وہ دو سو کلومٹیر لمبی قطار ہے جو دونوں ملکوں میں حد فاصل کے طور پر بنائی گئی ہے کیونکہ پاکستانی حکام کے مطابق ورکنگ باؤنڈری کے تعین کے لیے پکی تعمیرات ممنوع ہیں۔ بھارت نے متازعہ علاقے میں خار دار باڑ اور دیگر دفاعی تعمیرات کی ہیں جن پر پاکستان کو اعتراض رہتا ہے لیکن اس بار تشویش کی وجہ مبینہ دراندازی ہے۔

اذان مغرب سنائی دی انڈین باڑ پر لگے طاقتور سرچ لائیٹوں نے پاکستان کی جانب والا حصہ روشن کردیا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشناذان مغرب سنائی دی انڈین باڑ پر لگے طاقتور سرچ لائیٹوں نے پاکستان کی جانب والا حصہ روشن کردیا جاتا ہے

بی ایس ایف کا دعویٰ ہے کہ دراندازوں نے ان پر حملے کیے ہیں اور انڈیا میں داخل ہوئے۔ پاکستان رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈئرمسعود احمد نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ اور انڈیا کا پراوپیگنڈہ ہے۔ ان کے بقول بی ایس ایف کی ملی بھگت کے بغیر ورکنگ باؤنڈری کو عبور کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے دراندازی کے واقعات کو من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ افغانستان سے پکڑے گئے افراد کو پاک بھارت سرحد پر مبینہ مقابلے میں مار کے یہ جھوٹا اعلان کی جاتا ہے کہ ’دہشت گرد‘ مار دیےگئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا ڈرامہ ریاست کی سطح پر سٹیج کیا جاتا ہے اور بھارتی میڈیا کو چالاکی سے استعمال کیا جاتا ہے۔

بریگیڈئر مسعود احمد ورکنگ باؤنڈری سمیت تقریباً چار سو کلومیٹر تک کے سرحدی علاقےکی حفاظت پر مامور ’چناب رینجرز‘ کے انچارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی حالات دکھانے کے لیے میڈیا کو ورکنگ باؤنڈری پر مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ خود زمینی حقائق کا جائزہ لیے کر اس بات کا فیصلہ کریں کہ بھارت کے الزامات میں کس حد تک صداقت ہوسکتی ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان رینجرز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ورکنگ باؤنڈری کا تفصیلی دورہ کرایا ہے۔ اس سے پہلے چناب ریینجرز ہیڈکواٹر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نقشوں کی مدد سے ورکنگ باؤنڈری کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

اتنی اونچی اور چوڑی باڑ میں سے بی ایس ایف کی اجازت کے بغیر آدمی تو کیا بلی کا بچہ بھی نہیں گذرسکتا: رینجرز
،تصویر کا کیپشناتنی اونچی اور چوڑی باڑ میں سے بی ایس ایف کی اجازت کے بغیر آدمی تو کیا بلی کا بچہ بھی نہیں گذرسکتا: رینجرز

اس بریفنگ میں بھارت کی جانب تعمیر کی گئی خاردار تاروں کی باڑ کا ایک ماڈل دکھایا گیا اور اس کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی کہ بلا اجازت اسے پار کرنا عام حالات میں ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں اس باڑ میں کرنٹ بھی چھوڑ دیا جاتا ہے اور دریاؤں کے اندر بھی باڑ لگائی گئی ہے۔ بریگیڈیئر مسعود احمد نے میڈیا ٹیم کو ورکنگ باؤنڈری لے جاکر خاردار تار کا منظر دکھایا اور کہا کہ اتنی اونچی اور چوڑی باڑ میں سے بی ایس ایف کی اجازت کے بغیر آدمی تو کیا بلی کا بچہ بھی نہیں گزر سکتا۔

یہ شام کا وقت تھا اور سیالکوٹ کے ایک سرحدی گاؤں میں جیسے ہی اذان مغرب سنائی دی انڈین باڑ پر لگے طاقتور سرچ لائیٹوں نے پاکستان کی جانب والا حصہ روشن کردیا۔ باڑ میں لگا گیٹ بند کردیا گیا تھا اور بھارتی کسان واپس جاچکے تھے۔ رینجرز حکام نے بتایا کہ چونکہ باڑ ایک سو سے لے کر پانچ سو میٹر اندر بھارت کے زیر انتظام علاقے میں لگی ہے اس لیے باڑ کی پاکستانی جانب پر بھی بھارتی کسان کاشتکاری کرتے ہیں۔ یہ علاقہ سرسبز و شاداب ہے اور ساٹھ برس سےسرحدی محافظوں کے درمیان کشیدگی کے باوجود اس علاقے کے لوگ کاشتکاری کے پیشے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اسی سیالکوٹ سیکٹر کے علاقے میں شکر گڑھ کے قریب ’نومینز لینڈ‘ (ممنوعہ علاقہ) پر وہ آم کا درخت بھی واقع ہے جس پر قبضے کے لیے سنہ انیس سو پیسنٹھ کی جنگ میں دونوں ملکوں نے بے حد کوشش کی۔ یہیں پر ہمیں وہ پانچ فٹ چوڑی سڑک بھی دکھائی دی جس پر سفر کریں تو سچیت نگر سے ہوتے ہوئے صرف اٹھارہ کلومیٹر بعد جموں شہر میں داخل ہوسکتے ہیں لیکن اب یہ سفر اٹھارہ سو کلومیٹر سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔

اب کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنا ہوگا جو لاہور اور دلی سے ہوتے ہوئے جموں تک پہنچتا ہو کیونکہ پانچ فٹ کی ساٹھ برس پرانی سڑک پر خالی کنستروں، کرنٹ بھری خاردار تاروں اور ایک دوسرے پر رائفلیں تانے سرحدی محافظوں کی رکاوٹ کھڑی ہے۔