ریٹائرمنٹ کیلیےنو ججوں کی درخواست

فائل فوٹو، لاہور ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشناکتیس جولائی کو سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے پی سی او ججوں کو نوٹسز جاری جاری کیے تھے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
  • وقت اشاعت

عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے لاہور ہائی کورٹ کے آٹھ اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک غیر فعال جج نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے دی ہے۔ ان تمام ججوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے پاس قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے درخواستیں جمع کرانے والوں میں نجم الزماں صدیقی، انوار الحق، فضل میراں، طارق شمیم، ایم بلال، خالد علوی اور سید اصغر حیدر شامل ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے ندیم اظہر صدیقی نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دی ہے۔

قواعد کے مطابق صرف وہ جج ریٹائرمنٹ کے مالی فوائد حاصل کرسکتا ہے جو کم از کم پانچ برس تک جج کے عہدے پر فائز رہا ہو۔

لاہور ہائی کورٹ کے بارہ اور سندھ ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔

اب سندھ ہائی کورٹ کے پانچ اور لاہور ہائی کورٹ کے چار پی سی او جج ایسے ہیں جو نہ تو مستعفی ہوئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پاکستان کی اعلٰی عدلیہ کے تقریباً ساٹھ ججوں کوغیر فعال کردیا تھا۔

عدلیہ کی بحالی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا کرنا پڑا۔یہ نوٹس اکتیس جولائی کو سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے تمام ججوں کو جاری کیے۔