بولنے کی کوشش کرتا توزبان گنگ ہوجاتی

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے جس بازار میں دھماکہ ہوا ہے اس کا شمار شہر کے مصروف ترین بازاروں میں سے ہوتا ہے۔ خیبر بازار، اس سے متصل قصہ خوانی بازار اور آس پاس کا علاقہ انتہائی گنجان آباد ہے جس میں ماضی میں کئی خودکش اور بم دھماکے ہوئے ہیں۔
زیادہ آبادی کی وجہ سے ان دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد دوسرے علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کی نسبت زیادہ دیکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے قصہ خوانی میں تین مرتبہ امام بارگاہوں میں خودکش حملوں میں درجنوں ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
اس دفعہ بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر ارد گرد پھیلی ہوئی تباہی کو دیکھ کر دھماکے کی شدت کا اندازہ ہوا۔ جائے وقوعہ کے چاروں طرف تقریباً چار سو گز کے فاصلے پر واقع عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا جبکہ آس پاس گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ شدہ حالت میں پڑی تھیں۔
ان میں سے بعض گاڑیاں اور موٹر سائیکل ایسی حالت میں سڑک پر گرے پڑے تھے جیسے دھماکے کے وقت ان میں سوار افراد حالتِ سفر میں تھے۔ جس لوکل بس کے قریب کار میں دھماکہ ہوا ہے اس بس کا صرف ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے اور وہ ایک سائڈ پر گرا ہوا پڑا تھا۔
موقع پر پہنچ کر میں نے پولیس اور امدادی کارکنوں کو دیکھا جو بس کے اندر سے انسانی اعضاء کے لوتھڑے اکٹھے کررہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب میرا وہاں سے گزر ہوا تو سفید کپڑے میں بوری بھر انسانی اعضاء کو جمع کیا گیا تھا۔ سڑک پر اردگرد کھڑے پانی میں انسانی خون شامل ہوا تھا جس سے اس کا رنگ سرخی مائل ہوگیا تھا۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مردہ خانے میں داخل ہوا تو لاشوں کی ایک قطار پڑی ہوئی تھیں جن پر سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ ان میں سے بعض کی حالت تو اتنی خراب تھی کہ پہچان ہی نہیں ہوپارہی تھی۔ کسی نے ہاتھ نہیں تو کسی کا کندھا غائب اور ایک کا تو پیٹ میں جیسا گڑھا بن گیا تھا۔
اوپر شعبہ حادثات میں تو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی۔ وہاں پر بھی زخمیوں کی حالت انسان سے دیکھی نہیں جاسکتی تھی۔ میرے کسی شناسا نے مجھے آواز دی اور بتایا کہ دیکھو اس بچے کا کوئی نہیں۔ میں اس کے پاس گیا تو اس کے سر اور پیروں پر پٹیاں لگی ہوئی تھی۔ موٹی موٹی آنکھیں خوبصورت اور معصوم سا چہرہ لیے وہ میرے سوالات کے جوابات دینے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔۔
میں نے اس سے کئی سوالات کیے مگر وہ میری بات کو سمجھ تو جاتا لیکن جب بولنے کی کوشش کرتا تو تو زبان گنگ ہوجاتی تھی۔ پاس کھڑے شخص نے بتایا کہ بچے کا نام عمیر ولد فضل کریم ہے اورباجوڑ کا رہائشی ہے مگر اب تک لاوارث پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچہ والدین کے ساتھ بس میں سوار تھا کہ دھماکہ ہوا اور اب اس سے ماں باپ کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہسپتال کے مختلف حصوں میں خواتین بین کرتی ہوئی نظر آئیں۔ دو خواتین شعبہ حادثات کے سامنے بچوں کے ہمرا بیھٹی ہوئی تھیں ان میں سے ایک کو وہاں موجود لوگ دلاسہ دے رہے تھے کہ ان کا بچہ نہیں مرا ہے لیکن وہ مان ہی نہیں رہی تھی اور مسلسل روتی رہی کہ ’میرا بیٹا کہاں ہے‘۔



















