زیادہ تر یرغمالیوں کو آزاد کر لیا گیا: فوجی ترجمان

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق فوجی کمانڈوز نے عمارت پر دھاوا بول کر زیادہ تر یرغمالیوں کو آزاد کرا لیا ہے۔ اس سے پہلے جی ایچ کیو کے سکیورٹی آفس سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔
اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز یعنی جی ایچ کیو میں چار سے پانچ ممکنہ حملہ آوروں نے دو درجن کے لگ بھگ افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں فوجی اور شہری ملازمین شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> حملے کے بارے میں ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/10/091010_ghq_attack_aw?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=16x9&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> حملے کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091010_ghq_pix_na.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> حملے پر بی بی سی کے نامہ نگاروں کا تجزیہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/10/091010_ghq_discussion_aw?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=au&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>
فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے آدھ گھنٹے میں کارروائی مکمل کر لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ یرغمالی باہر آچکے ہیں تاہم چند اندر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔ حملہ آور جس عمارت میں چھپے تھے اس کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
صبح فجر کی اذان کے بعد سے جی ایچ کیو کے اندر تین دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایمبولینس کی نقل و حرکت بھی دیکھی جا رہی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تصویریں جاری کر دی ہیں۔ ان تصویروں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی عمریں بیس سے تیس سال تک ہیں اور ان میں سے ایک کا بازو اور ٹانگ دھماکے خیز مواد سے اُڑ گئے ہیں اور وہ خودکش بمبار دکھائی دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبل ازیں فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بتایا تھا کہ ہفتے کی دوپہر چھ مسلح افراد نے جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر ایک پر حملہ کیا تھا جن میں سے چار کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور باقی دو نے گیٹ نمبر دو کے عقب میں سکیورٹی کی ایک عمارت میں کچھ اہلکاروں اور سول ملازمین کو یرغمال بنا لیا تھا۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ذرائع دہشت گردوں کی تعداد چار سے پانچ بتا رہے ہیں اور یرغمالیوں کی تعداد پندرہ بتائی جا رہی ہے۔
اس عمارت کو ہفتے کی سہ پہر سے فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ہفتے کی رات کو پورا علاقے مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور جی ایچ کیو کے اندر سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
ابتدائی اندازوں کے برعکس اب اس حملے میں مجموعی طور پر آٹھ سے دس حملہ آوروں کے حصہ لینے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ہلاک کئے جانے والے حملہ آوروں کی شناخت ابھی حکام نے نہیں کروائی ہے۔
فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے حملہ آوروں کے مطالبات کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکری ماہرین کی ٹیم موقع پر موجود ہے تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کروایا جاسکے۔ انہوں نے میڈیا سے غیرذمہ دارانہ خبریں دینے سے منع کیا جن سے یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے ایک خفیہ ایجنسی سے فون پر بات کرکے قبول کر لی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کلعدم تحریک طالبان یہ اعلان بھی کر چکی ہے کہ وہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں حملے کریں گے۔
اس صورت حال کے تناظر میں ہفتے کی شام کو ایوان صدر میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں صدر کے علاوہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایوان صدر پہنچے۔
اس سے قبل ہفتے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب فوجی وردیوں میں ملبوس کئی حملہ آوروں نے جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر ایک پر سفید رنگ کی سوزوکی کیری میں جس پر فوجی نمبر پلیٹ لگی تھی پہنچ کر سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی تھی۔
گیٹ نمبر ایک پر کم از کم چار سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد یہ حملہ آوور گیٹ نمبر دو کی طرف بڑھے لیکن سکیورٹی پر موجود اہلکاروں نے فائرنگ کر کے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس موقع پر جی ایچ کیو کی سکیورٹی کے انچارج بریگیڈیئر انوارالحق اور لفٹیننٹ کرنل محمد وسیم عامر بھی ہلاک ہو گئے۔
صوابی سے تعلق رکھنے والے کرنل وسیم کو بعد میں ان کے آبائی قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کئی نجی ٹی وی چینلوں کی عارضی بندش کے بارے میں میجر جنرل اطہر عباس نے بات کرتے ہوئِے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ٹی وی چینل فوج کارروائی براہ راست نشر کر رہے تھے جس بنا پر دشواریاں پیش آنے کا اندیشہ تھا۔ بعد میں ان نجی ٹی وی چینل کی نشریات رات دیر سے بحال کر دی گئیں تھیں۔
آپریشن کے دوران متعدد سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے آر پی او اسلم ترین نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک راہگیر بھی شامل ہے جو آپریشن کے دوران ہونے والی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
یوں تو راولپنڈی میں ملک کا سب سے بڑی فوجی مرکز ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز پر کئی خودکش حملے ہوچکے ہیں لیکن اس اور اس سے قبل اقوام متحدہ کے دفتر پر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔ اب وہ سکیورٹی فورسز کا ہی بھیس بدل کر ہدف تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں سالِ رواں کے دوران دہشتگردوں نے متعدد اہم اداروں اور شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ مارچ کے مہینے میں دہشتگردوں نے پہلے لاہور میں سری لنکن کرکٹرز کی بس پر فائرنگ کر کے سات افراد کو ہلاک کیا اور پھر اسی ماہ مناواں میں پولیس تربیتی مرکز پر حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
جی ایچ کیو سے تھوڑے ہی فاصلے میں موجود سر سید ہائی سکول کے ایک استاد نیئر خالد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ فائرنگ کی وجہ سے چھٹی کا وقت ہوجانے کے باوجود بڑی تعداد میں قریب میں واقع سکول کے طلبہ کو سکول چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ پنڈی کی اہم شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے ٹریف کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر بہت بڑی تعداد میں فوجی وردیاں، بلے، فوجی نمبر پلیٹس اور دیگر ساز وسامان برآمد کر لیا ہے۔ خیال ہے کہ حملہ آور یہیں سے روانہ ہوئے تھے اور منصوبہ بندی کی تھی۔



















