جی ایچ کیو: حفاظتی انتظامات ناقص ثابت ہوئے

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر پر مسلح افراد کے حملے سے پاکستان کے دفاع کے ذمہ دار ادارے کی اپنی حفاظت کے بارے میں بعض خدشات نے جنم لیا ہے۔
دفاعی ماہرین اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں ماضی میں خدمات انجام دینے والے سینئر افسروں کا ماننا ہے کہ گو کہ حملہ آور آرمی ہیڈکوارٹر کے مرکز تک نہیں پہنچ سکے لیکن قومی اہمیت کے اس ادارے کی حفاظت کے انتظامات ناقص ہونا ثابت ہو گیا ہے۔
پاک فوج کے سابق ایڈجوٹنٹ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے خطرات جس طرح سے بڑھ رہے ہیں ان کے مقابلے میں جی ایچ کیو میں کئے گئے حفاظتی انتظامات ناقص ثابت ہوئے ہیں۔
’آج کل دہشت گردوں کے طریقہ کار جتنے جدید ہوگئے ہیں اور پاکستانی فوج اور دیگر قومی ادارے جس طرح ان کے اہداف بنتے جا رہے ہیں ان کے مقابلے میں جی ایچ کیو میں انتظامات ناکافی تھے۔ اگر بیرونی چیک پوسٹ پر تعینات حفاظتی عملہ خود ہی پوری طرح محفوظ نہ ہو اور ان کے پاس مناسب سازوسامان نہیں ہے تو وہ باقی لوگوں کی حفاظت کیسے کرے گا۔‘
جی ایچ کیو میں کئی برس ایڈجوٹنٹ جنرل کے فرائض انجام دینے والے جنرل امجد شعیب نے کہا کہ ہفتے کے روز جی ایچ کیو کے باہر بالکل ایسے ہی ہوا۔ ’حملہ آوروں نے بہت اطیمنان سے بیرونی چیک پوسٹ پر تعینات گارڈز کو اپنی گاڑی سے بآسانی گولی ماری جس کے بعد جی ایچ کیو کے دروازے تک ان کے لیے میدان کھلا تھا۔‘
جنرل امجد شعیب کے مطابق قومی اہمیت کے مقامات پر حفاظتی عملے کو جدید حفاظتی سازوسامان دینا بہت ضروری ہے ورنہ اس طرح کے کامیاب حملے ہوتے رہیں گے۔
تاہم جنرل امجد نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ حملہ آور جی ایچ کیو کے اندر گھس کر مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ’ایسا نہیں ہوا کیونکہ جس بیرک میں ان کی موجودگی بتائی جاتی رہی ہے وہ جی ایچ کیو کی بیرونی دیوار کے ساتھ واقع ہے۔ ابھی اس بیرک اور جی ایچ کیو کے دفاتر کے درمیان سیکیورٹی کی مزید دو تہیں موجود تھیں جنہیں عبور کرنا خاصا مشکل ہوسکتا ہے۔’















