باجوڑ:’فرینڈلی آپریشن‘ یا درست کارروائی

باجوڑ میں اگست میں ہونے والے آپریشن میں زیادہ تر علاقے سے طالبان کا صفایا کر دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنباجوڑ میں اگست میں ہونے والے آپریشن میں زیادہ تر علاقے سے طالبان کا صفایا کر دیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اگست دو ہزار آٹھ میں پاکستانی اور افغان طالبان کے خلاف شروع کیا جانے والا فوجی آپریشن چند ماہ کی خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھرشروع کردیا گیا ہے تاہم اس مرتبہ حکومتی اہلکار دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ کارروائی عسکریت پسندوں کے خاتمے تک جاری رہےگی۔

باجوڑ میں گزشتہ سال چھ اگست کو فوجی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب صدر مقام خار سمیت زیادہ تر علاقوں پر طالبان قابض تھے۔ مبصرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں طالبان کے خلاف درست آپریشن کا آغاز باجوڑ سے کیا گیا۔ ان کے بقول اس سے پہلے ہونے والی کارروائیوں کو ’فرینڈلی آپریشن‘ کے نام سے یاد کیا جاسکتا ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے حکومت کے مطابق خار اور نواگئی تحصیلوں میں مکمل طورپر جبکہ سالارزئی تحصیل کے چند علاقوں میں حکومت کی رٹ بحال کردی گئی اور کئی سالوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار چارمنگ اور لوئی سم کے علاقے میں داخل ہوئے۔

آپریشن اتنا بھرپور تھا کہ اس کی وجہ سے باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے کنٹرول اور کمانڈ سسٹم کو شدید نقصان پہنچا اور طالبان ترجمان مولوی عمر باجوڑ کی بجائے دوسرے علاقوں سے میڈیا سے رابطے کرتے تھے۔

جب سکیورٹی فورسز کو علاقے پر کنٹرول حاصل ہوا تو قبائلی عمائدین کے ذریعے اس سال مارچ میں ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے تحت مولوی فقیر محمد کی قیادت میں سرگرم طالبان نے حکومت کے تمام شرائط ماننے پر رضامندی ظاہر کی۔ سب سے پہلے یک طرفہ فائر بندی کا اعلان بھی طالبان کی طرف سے ہوا اور بعد میں حکومت نے جنگ بندی میں توسیع کردی۔

اس وقت مولوی فقیر محمد نے خود ایف ایم ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے فوج کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ’طالبان فوج اور ملک کے خلاف جنگ نہیں چاہتے بلکہ بعض مفاد پرست عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کےلیے دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے ان کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔‘

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ بیرونی دنیا کو پاکستان فوج اور ’مجاہدین‘ کی طاقت اور صلاحیتوں کا بخوبی علم ہے اس لیے ان کی کوشش ہے کہ اس ملک میں کبھی امن قائم نہ رہے۔

اس جنگ بندی کی وجہ سے باجوڑ میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے دو اہم تحصیلوں وڑہ ماموند اور لوئے ماموند میں کارروائی نہیں ہوسکی۔ باجوڑ میں طالبان کے تمام اہم کمانڈروں مولوی فقیر، کمانڈر شینہ، مولوی عمر کا تعلق اسی ماموند سے ہے جبکہ افغان جنگجو بھی اسی علاقے میں سرگرم ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب حکومت کو امن معاہدہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت زیادہ تر علاقہ صاف کردیا گیا تھا اور اگر اس وقت ماموند تحصیل میں بھی آپریشن ہوتا تو آج علاقہ شدت پسندوں کا صفایاہو چکا ہوتا اور مزید کارروائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ان کے مطابق پاکستان میں جب بھی طالبان کو فرار کا راستہ دینے کی کوشش کی جاتی تو ایک امن معاہدہ عمل میں لایا جا تا اور انہی امن معاہدوں کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔

باجوڑ میں اگست میں کیے جانے والے آپریشن میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔ آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ ان کے مکانات اور جائیدادیں بھی تباہ ہوئیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ آج بھی لوئی سم، چارمنگ اور نواگئی میں درست حالت میں کوئی مکان نہیں ملتا۔

سرکاری اعداد وشمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن میں پندرہ سو شدت پسند اور سو کے قریب فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

اس کارروائی کی وجہ سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی اور تقریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے جو بدستور پشاور اور دیگر علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان لوگوں کے گھر بمباری میں مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

ان متاثرین کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے ہر ماہ کچھ امداد مل رہی تھی جس میں گھی، آٹا اور دالیں وغیرہ شامل ہیں تاہم ادارے کے دفتر پر اسلام آباد میں ہونے والے حملے کے بعد ان کے تمام دفاتر بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں امداد ملنا بند ہوگئی ہے۔

حالیہ کارروائیوں سے پہلے ہی تحصیل ماموند سے بڑے پیمانے پر لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کا نہیں کہا ہے بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے جارہے ہیں۔

باجوڑ کے ایک اعلٰی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو دنوں سے ماموند اور سالارزئی کے علاقوں میں اہم طالبان کمانڈروں کے مکانات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے زمینی پیش قدمی بھی شروع کردی ہے اور جنگ زئی تک علاقہ کلیئر کردیا گیا ہے۔