فیصل صالح اور جمشید دستی پر پابندی

پاکستان کی قومی اسمبلی
،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے بدھ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران یہ فیصلہ سنایا
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

قومی اسمبلی میں منگل کو گالم گلوچ اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی پاداش میں مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات کو سزا کے طور پر ایک جب کہ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جمشید دستی کو تین روز تک اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔

یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے بدھ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو ہونے والی بدمزگی کے بعد ایوان کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو قومی اسمبلی میں اُس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی تھی جب مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم فیصل صالح حیات اور صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے درمیاں گرما گرمی ہوئی تھی۔

موجودہ اسمبلی کی تقریبا ڈیڑھ سالہ مدت میں یہ دوسرا موقع تھا کہ حکومت اور حزب مخالف کے اراکین میں غیر پارلیمانی جملہ بازی ہوئی، لوٹے لوٹے اور شیم شیم کے نعرے سننے کو ملے اور اراکین ایک دوسرے کی طرف لڑنے کے لیے لپکتے رہے۔

یہ بدمزگی اس وقت پیدا ہوئی جب فیصل صالح حیات نے ڈاکٹر عذرا فضل پیچیوہو کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ کہے۔ ان کے الفاظ افسر صدارت عبدالقادر پٹیل نے کارروائی سے حذف کردیے تھے۔

فیصل صالح حیات سنہ دو ہزار دو کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہونے کے بعد فوجی صدر پرویز مشرف کے حامی بن گئے تھے۔ ان کے مبینہ نازیبا الفاظ پر ان کے اور مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے منتخب نوجوان رکن اسمبلی جمشید دستی کے درمیاں گالم گلوچ ہوئی تھی۔

جمشید دستی اپنی نشست چھوڑ کر اگلی نشستوں تک آگئے تھے اور فیصل صالح حیات سے لڑنے کے لیے لپکے تھے تو انہیں سید خورشید شاہ اور رحمٰن ملک نے پکڑ کر بٹھا دیا تھا۔

اس دوران ایوان میں سخت ہنگامہ ہوگیا تھا اور پیپلز پارٹی کے بیشتر اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر لوٹا لوٹا اور شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے تھے۔

فیصل صالح حیات نے نکتہ اعتراض پر کہا تھا کہ ان کی دس تحاریک التوا سپیکر نے مسترد کردیں اور مسلم لیگ (ق) جو کہ ایوان میں عددی اعتبار سے تیسری بڑی جماعت ہے، اُسے نظر انداز کیا گیا۔

جس پر حکومتی چیف وھپ سید خورشید نے وضاحت کی کہ تمام جماعتوں نے کیری لوگر بل پر تفصیلی بحث کا فیصلہ کیا اور ایسے میں کسی دوسری تحریک پر کیسے بحث ممکن ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حزب مخالف چاہے تو حکومت فیصل صالح حیات کی تحریک پر بحث کے لیے تیار ہے۔ لیکن فیصل صالح حیات نے کہا کہ ایوان کی کارروائی صبح شام چلائی جائے تو ان کی تحاریک پر بحث ہوسکتی ہے۔

اس پر ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ وہ روزانہ مقررہ وقت پر ایوان میں پہنچتی ہیں اور اکثر فیصل صالح حیات اور بعض دیگر اراکین نصف گھنٹہ بھی ایوان میں نہیں بیٹھتے اور ایسے میں وہ کیسے آٹھ گھنٹے کی کارروائی چلانےکی بات کرتے ہیں۔

اس کے جواب میں فیصل صالح حیات نے متعلقہ خاتون کو ’دھمکی آمیز انداز میں‘ جو کچھ کہا وہ کارروائی سے حذف کردیا گیا اور ایوان میں ہنگامہ ہوگیا۔

بعد میں فیصل صالح حیات، ریاض پیرزادہ اور دیگر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمشید دستی کی جانب سے فیصل صالح حیات کو گالم گلوچ کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جمشید دستی کی رکنیت معطل کی جائے ورنہ وہ کارروائی کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔