مشرف کے آرڈیننس توثیق کیلیے سینیٹ میں

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری کردہ بیشتر آرڈیننسز قانونی تحفظ دینے کے لیے منگل کو سینیٹ میں چھبیس آرڈیننسز پیش کیے جن میں این آر او آرڈیننس شامل نہیں ہے۔
سنہ دو ہزار سات میں جاری کردہ یہ آرڈیننسز خارج المدت ہوچکے ہیں لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت کے پیش نظر حکومت نے وہ پارلیمان میں پیش کیے۔
آئین کے مطابق صدارتی آرڈیننس چار ماہ تک کارگر رہتا ہے اور اس دوران اُسے پارلیمان میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ دو ہزار سات میں جاری کردہ آرڈیننسز کو تاحال پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا لیکن ان قوانین پر عمل آج تک جاری ہے۔
جب پرویز مشرف کے برطرف کردہ جج بحال ہوئے تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سابق صدر کے تمام اقدامات کا جائزہ لینے کی خاطر ایک مقدمے کی سماعت کے بعد فوجی صدر کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کرحکومت کو ہدایت کی تھی ان کے جاری کردہ آرڈیننس تیس نومبر تک پارلیمان سے منظور کرائے جاسکتے ہیں۔
اس سلسلہ میں منگل کو حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مہرین انور راجہ نے چھبیس آرڈیننس سینیٹ میں پیش کیے۔ پیش کردہ آرڈیننسز میں انتہائی متنازعہ رہنے والا ’این آر او‘ شامل نہیں ہے۔ این آر او کے تحت مقتول وزیراعظم بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف درج تمام مقدمات ختم ہوگئے تھے۔ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کے خلاف سینکڑوں مقدمات بھی واپس لیے گئے۔
منگل کو حکومت نے ایوان میں جو چھبیس آرڈیننسز پیش کیے وہ انسانی ترقی کے کمیشن، ضابطہ فوجداری اور دیگر قوانین میں ترامیم اور انسانی اعضا کی پیوند کاری اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں کے قیام کے بارے میں ہیں۔
وزیر مملکت نے جب آرڈیننسز پیش کیے تو مسلم لیگ (ن) کے رکن سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت سینتیس آرڈیننس پیش کرنے ہیں لیکن حکومت نے گیارہ آرڈیننس پیش ہی نہیں کیے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ لیگل پریکٹشنرز اور پیمرا کے ترمیمی آرڈیننس سمیت کچھ آرڈیننس ایسے ہیں جن پر حکومت کو تحفظات ہیں اور وہ ان کا جائزہ لینے کے بعد ایوان کے سامنے لائے گی۔
چیئرمین سینیٹ فارق حمید نائک نے کہا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کون سا آرڈیننس کب پیش کرنا چاہتی ہے اس لیے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبل ازیں سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران ولی محمد بادینی کی جانب سے سنہ دو ہزار دو کے بعد اسلام آباد میں ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، پارلیمینٹیرینز اور سی ڈی اے کے ملازمین کو رہائشی اور تجارتی پلاٹ دیے جانے کی تفصیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں آیا تو اس پر انہوں نے کہا کہ یہ معلومات فوری طور پر ایوان میں پیش کی جائے۔ ان کی حمایت قائد ایوان سید نیئر بخاری نے بھی کی اور کہا کہ ایسے لوگ جنہوں نے ایک پلاٹ لینے کے بعد حلف نامہ دیا کہ انہیں پلاٹ نہیں ملا اور دوسرا پلاٹ بھی حاصل کیا ہے ان کے نام بھی سامنےلائے جائیں۔
جس پر چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی حکومت سینیٹ کے آئندہ سیشن میں یہ تمام معلومات ایوان کے سامنے پیش کرے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ کس کس نے پلاٹ لیے ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران عباس خان نے اپنے سوال میں سنہ انیس سو پچاسی سے لے کر سنہ دو ہزار ایک تک اسلام آباد میں جن پارلیمینٹیرینز، وفاقی سیکریٹریز، ججوں اور صحافیوں نے پلاٹ حاصل کیے ہیں ان کے نام مانگے لیکن حکومت نے کہا کہ وہ معلومات ابھی اکٹھی کر رہی ہے۔
منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس جاری رہا۔ قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کا دن تھا اور حزب مخالف کے بعض اراکین نے اظہار رائے کی آزادی، معذور افراد کی ملازمتوں، نجکاری اور دیگر قوانین میں ترامیم کے لیے بل پیش کیے جو متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کیے گئے۔
دونوں ایوانوں میں کیری لوگر بل کے متعلق بحث بھی جاری رہی اور ایسا لگا کہ اکثر اراکین نے بل کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اپنی اپنی جماعتوں کی پالیسی کے تحت رٹی ہوئی باتیں دوہرائیں۔



















