پنجاب کے قبائلی علاقوں پر رینجرز رپورٹ

سات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنسات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
  • وقت اشاعت

جنوبی پنجاب کی نیم قبائلی علاقے کو پاکستان کے سکیورٹی فورسز کے بعض اداروں نے شدت پسندوں کا گڑھ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے متصل اس علاقے میں مناسب اقدامات کیے بغیر نہ تو کوئی فوجی آپریشن مکمل کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی پنجاب اور پاکستان کے دیگر وسطی علاقوں میں شدت پسندوں کا نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان فوج ان دنوں جنوبی وزیرستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاریاں کررہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان رینجرز نے اپنی ایک رپورٹ میں جنوبی پنجاب میں موجود ممکنہ سکیورٹی رسک کی نشاندہی کی ہے۔

یہ رپورٹ ابتدائی طور پر پاکستان رینجرز نے مرتب کی اور اسے فوج، محکمہ داخلہ اور مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کو بھجوایا۔

سات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں جن میں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان اورضلع راجن پور کے اس علاقے کی نشاندہی کی گئی ہے جو جنوبی وزیر ستان سے شروع ہوتا ہے اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ سندھ کے علاقے کشمور تک پہنچتا ہے۔

یہ تمام علاقہ دریائے سندھ سے اوپر ہے اور کچھ کو کچے کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیر ستان سے شدت پسند اس علاقے میں آسانی سے داخل ہوتے ہیں اور یہیں پر ان کے ٹریننگ سینٹر بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں ان چار دینی مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو مبینہ طور پر عسکریت کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں۔

رپورٹ مرتب کرنے والی سکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاقے میں ایک سو نواسی رجسٹرڈ دینی مدارس ہے لیکن چار دینی مدرسے ایسے ہیں جن کے شدت پسند گروپوں سے روابط کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان رینجرز کے ترجمان ندیم رضا نے رپورٹ مرتب کیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہ خود اس علاقے میں فرائص انجام دیتے رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایک بڑا علاقہ ایسا ہے جہاں پاکستان کے کسی قانون کی عملداری نہیں ہے۔

رپورٹ میں ان مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی جو مبینہ طور پر عسکریت پسندی کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں
،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں ان مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی جو مبینہ طور پر عسکریت پسندی کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں

اس رپورٹ میں علاقے کی تین اہم مذہبی شخصیات کےنام دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک اسلام آباد کی لال مسجد کےامام مولانا عبدالعزیز غازی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔دوسری اہم شخصیت کے ایک ایسے مدرسےکے منتظم ہیں جو بجلی سے محروم علاقے میں قائم ہے لیکن اس کے باوجود اس کا اپنا جرنیٹر چوبیس گھنٹے چلتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ انہیں ڈالرز میں فنڈز ملتے ہیں اور انہوں نے متعددبار مقامی منی چینجرزسے بھاری تعداد میں امریکی ڈالروں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرایا۔

تیسری مذہبی شخصیت نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اچانک دولت مند ہوچکی ہے اور مبینہ طور پر اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔

پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب یعقوب کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ان علاقوں ایسے حصوں میں بھی غیر ملکی سفارتکار آزادانہ اور محفوظ سفر کرتے ہیں جہاں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی بھی رسائی نہیں ہے اور یہ رپورٹس بھی موجود ہیں کہ ان سفارتکاروں نے مقامی لوگوں کو پیسے دیے ہیں۔ٰ

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں حصہ دار بننے کے بعد پاکستانی حکام نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ان تمام قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقہ قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا اورصدر پرویز مشرف کےدور میں یہاں دو تھانے اور پندرہ پولیس چوکیاں تعمیر کی گئیں لیکن آج تک کسی پولیس اہلکار کووہاں پہنچنے کی جرات نہیں ہوئی۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ’ یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اس علاقے میں شدت پسند اکٹھے ہوتے ہیں۔مدرسے انہیں مدد فراہم کرتے ہیں، ان کی تربیت کی جاتی ہے اور فاٹا کے عسکریت پسندوں سے ان کے براہ راست رابطے ہیں۔

پاکستان رینجرز کے جوان اس قبائلی پٹی پر ڈیوٹی دیتے رہے ہیں اور چند برس سے کشمور اور روجھان میں تعینات ہیں جہاں ان کی ذمہ داری قدرتی گیس کی پائپ لائن کی حفاظت ہے۔

قبائلی علاقے سے محلقہ کوہ سلیمان کے پانچ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ باڈر ملٹری پولیس کے زیر انتظام دیا گیا لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں مروجہ اصول اور روایات کے مطابق جدید اسلحہ رکھنا کوئی جرم نہیں ہے اور خطرناک مجرم قتل ڈکیتی رہزنی اور اغوا برائے تاوان جیسی واردواتوں کے بعد اس علاقے میں پناہ لیتے ہیں۔ اسی علاقے میں فراری کیمپس بھی ہیں جہاں رینجرز حکام کے بقول جہادی گروپوں کو بھی عسکری تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اس جنوبی علاقے کو محفوظ بنانا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے البتہ اس علاقے کے حالات کےبارے میں اعلی حکام کو آگاہ کیا جاچکا ہے۔

راولپنڈی میں فوجی ہیڈکواٹر پر حملہ کرنے والوں میں سے نصف کا تعلق پنجاب سے ہے اور تحریک طالبان کے ترجمان نے انہیں اپنا جگرکا گوشہ قرار دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے اپنے ایک تازہ اخباری بیان میں جنوبی پنجاب میں شدت پسندی کی اطلاعات کو پراپیگنڈہ قرار دیا ہے لیکن بعض وفاقی سکیورٹی فورسز کے حکام کا خیال ہے کہ وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے پہلے جنوبی پنجاب کے قبائلی علاقوں کا مناسب بندوبست نہ کرنا ایک غلطی ہوگی۔

جنوبی پنجاب کے قبائلی علاقے کے بارے میں جو رپورٹ اس وقت پاکستان کی فوج، محکمہ داخلہ، محکمہ دفاع سمیت تمام خفیہ سول وملٹری خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہے اس میں یہ جملہ لکھا ہے۔

’یہ قبائلی پٹی قانون شکنوں کی نرسری اور ان کی جنت ہے۔‘