’تاریخ کا فیصلہ جنرل کیانی کریں گے‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومت نے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا ہوا ہے تاہم یہ کب شروع ہوگا اس کا حتمی فیصلہ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کریں گے۔
ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل حکومت شدت پسندوں کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ شدت پسندوں سے جس نے الگ ہونا ہے اسے اس کا پورا موقع فراہم کر دیں۔ اس سے ان کی مدد میں کمی آئے گی۔‘
تاہم اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں فوجی صدر دفتر پر حملے کی کڑیاں بھی جنوبی وزیرستان سے جاملتی ہیں۔ ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ان کا اپنا تیار کیا ہوا دین ہے۔ انہیں ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ شدت پسند اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔ میں نے انہیں ایک نیا نام دیا ہے کرائے کے قاتل۔ ان کا ایک ہی کام ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا۔ وقت دور نہیں ہم انہیں مار بھگائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کی پشت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں واقع سفارت خانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی فورس بھی تیار کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سفارت خانوں کو جگہیں الاٹ کی جاچکی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام دفاتر بھی ڈپلومیٹک انکلیو منتقل ہو جائیں۔
ادھر پشاور سے اطلاعات ہیں کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کا ایک وفد مذاکرات کے لیے طلب کیا گیا ہے جس سے حکومت تحریک طالبان کی مدد ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔
پاکستانی فوج گزشتہ کئی ماہ سے جنوبی وزیرستان میں شدت پسند ٹھکانوں پر فضائی حملے پہلے ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد عسکری ذرائع کے مطابق زمینی کارروائی سے قبل نشانے کو کمزور کرنا ہے۔ توقع ہے کہ کارروائی جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے تک ہی محدود رہے گی۔















