ہلاکت کے ذمہ دار خود متاثرین بھی

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سندھ حکومت کی ہدایت پر بنائے جانے والے تحقیقاتی ٹریبونل نے کراچی کے علاقے کھوڑی گارڈن میں بھگدڑ میں ہلاک ہونے والی اٹھارہ خواتین کی ہلاکت کا ذمہ دار متاثرین، مخیر شخص اور انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔
یہ خواتین ماہِ رمضان میں چودہ ستمبر کو اس وقت ہلاک ہوگئی تھیں جب کھوڑی گارڈن میں مفت راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی۔ اس موقع پر بہت ہی تنگ جگہ پر تین سو سے چار سو افراد جمع تھے اور کسی بات پر وہاں جھگڑا شروع ہوا اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فہیم احمد صدیقی کی سربراہی میں قائم ہونے والے تحقیقاتی ٹریبونل نے اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد بدھ کو وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کو بھیج دی ہے۔
چوالیس صفحوں پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امداد تقسیم کرنے والے منتظمین کو حفاظتی اور امن و امان کے اقدامات کو یقینی بنانا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ مخیر حضرات کی جانب سے درخواست دیے جانے پر اس قسم کی امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب جگہ کا بندوبست کریں اور انہیں ہر ممکنہ سہولت بہم پہنچائیں۔
انہوں نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس میں حکومتی اداروں کا عمل دخل بھی ہو۔

تحقیقات کے دوران سولہ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں مخیر شخص چودھری حاجی افتخار، صدر ٹاؤن ناظم، یو سی ناظم، علاقے کے تھانیدار، متاثرہ افراد اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔
مخیر شخص چودھری حاجی افتخار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ گذشتہ پچیس برس سے مستحق افراد میں راشن تقسیم کر رہے ہیں اور کبھی بھی ایسا افسوسناک واقعہ رونما نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ واقع اس وقت پیش آیا جب وہاں موجود افراد نے آٹے کے حصول کے لیے مفت تقسیم کیے گئے ٹوکن ایک دوسرے سے چھیننا شروع کردیے جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور اٹھارہ خواتین اور لڑکیاں پیروں تلے کچل کر ہلاک ہوگئیں۔















