سوات میں عدالتوں نے کام شروع کردیا

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مینگورہ
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ضلعی کچہری کے ایک حصے میں آج کل ایک نئے بلاک کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ کھڑکی دروازے تیار کیے جا رہے ہیں تاہم اکثر کمروں میں عدالتوں نے پہلے ہی کام شروع کر رکھا ہے۔
یہ سوات میں اس سال فروری میں نافذ کیے گئے نظام عدل کے قانون کے تحت کام کرنے والی علاقہ قاضی کی عدالتیں ہیں۔ اس نظام کا مطالبہ مقامی طالبان اور مولانا صوفی محمد کی کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی ایک طویل عرصے سے کر رہی تھیں۔
تحریک طالبان انصاف کی جلد اور آسان فراہمی میں تاخیر کو اپنی پرتشدد کارروائی کا بڑا جواز قرار دیتی تھی۔ اس پرانے مسئلے کی بنیاد پر اس نے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سوات بار ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب عالم اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے نظام عدل کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر اٹھایا کیونکہ ان کا مقصد سیاسی طاقت یا اقتدار حاصل کرنا تھا۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا اب فوجی کارروائی اور نظام عدل کے قانون کے نفاذ کے بعد شدت پسندوں کی واپسی کا راستہ ہمیشہ کے لیے روک دیا گیا ہے؟
سوات میں تین ماہ تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے تعطل کے بعد مقامی عدالتوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ مقدمات سنے جا رہے ہیں اور فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تمام ضلع میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ سکیورٹی چوکیوں کی وجہ سے دیہات کے لوگ اپنے مقدمات کے سلسلے میں مینگورہ آ نہیں پا رہے۔ لیکن مقدمات کی سماعت میں بہتری آ رہی ہے۔

لیکن مسائل بھی یقیناً بہت ہیں۔ سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (قاف) کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں نائب قائد حزب اختلاف امیر مقام کو شکایت ہے کہ حکومت نے ماضی کی تلخیوں کے باوجود ابھی تک عدالتی نظام کی بہتری پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ ’اس حکومت نے ایک جج تو اضافی لگایا نہیں ابھی تک۔ فی الحال تو سوات کے لوگ اپنی بحالی کے مسائل میں پھنسے ہیں اور اس جانب ان کی توجہ گئی نہیں ہے۔ اس سے قبل کہ پھر یہ مسئلہ اٹھے حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔‘
فرید اللہ ایڈووکیٹ خود بھی ایبٹ آباد اور دیر میں سول جج رہ چکے ہیں۔ ان کا بھی یہ خیال ہے کہ زیادہ تعداد میں جج ہی لوگوں کو جلد انصاف مہیا کرسکتے ہیں۔ ’ایبٹ آباد میں میرے پاس اس وقت نو سو مقدمات زیر سماعت تھے۔ وہاں میں معمول کے مقدمات میں دو دو ماہ تک کی تاریخیں دیا کرتا تھا۔ لیکن جب میں دیر آیا تو زیر التوا مقدمات کی تعداد ایک سو اسی تھی۔ وہاں میں تین چار دن کی تاریخ دیا کرتا تھا جس سے مقدمات کی تعداد بہت جلد انتہائی کم سطح تک آ گئی تھی۔‘
نظام عدل کے تحت تعینات کیے گئے قاضیوں کا ناصرف قرآن اور حدیث میں دسترس اہم قرار پائی بلکہ ان کا اسلامی حلیہ بھی ضروری قرار پایا تھا۔ اکثر علاقہ قاضی باریش اور سفید ٹوپیاں پہنے روزانہ مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ لیکن حکام کے مطابق نئے قانون کے متعارف کروانے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ قاضی ہاتھ کاٹنے یا کوڑوں کی سزائیں ہی دیں گے۔ اس کا مقصد ہے کہ مقدمات کے فیصلے جلد ممکن ہوسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی کارروائی کا قانون بھی نظام عدل آرڈیننس کے آنے کے بعد مقدمات کی جلد سماعت اور نمٹانے کا تقاضہ کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیشن جج شاہ جہان اخوندزادہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ میں انہوں نے خود اسّی فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا ہے۔ ’اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ یہ عوام اور وکلاء کے تعاون کی وجہ سے ممکن ہوا۔‘

تاہم ان کے پاس بھی اپنے مسائل کی ایک لمبی فہرست تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ججوں کے پاس عدالتیں نہیں ہیں۔ فرنیچر، کمپیوٹر یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا پھر لوٹے جاچکے ہیں۔ ’یہاں تو پھر حالات قدرے اچھے ہیں۔ مٹہ تحصیل میں عدالتی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور ججوں کے بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں ہے۔ مجھے لوگ بتاتے ہیں کہ مٹہ سے مینگورہ تک اٹھائیس چیک پوسٹیں ہیں۔ وہاں کے تھانے نے ابھی کام شروع نہیں کیا ہے۔ ریکارڈ جل چکا ہے۔ اسی طرح بحرین میں بھی حالات ہیں۔‘
شاہ جہان اخوندزادہ نے مزید کہا کہ نئے بلاک اور رہائش کے لیے فنڈز ملے ہیں لیکن زیر تعمیر رہائشی عمارت میں فوجی آگئے ہیں جس سے ٹھیکیدار بھاگے ہوئے ہیں۔ اس سے کام اور پیسے کا ضیاع ہو رہا ہے۔
نظام عدل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ابھی پیدا ہوا ہے اس بچے کو بڑھنے تو دیں۔ ’نظام عدل میں بھی عدلیہ کی آزادی سے متصادم چند دفعات ہیں جیسے کہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کا یہاں وجود۔ ان دفعات کو بھی دیکھا جائے گا۔‘
سوات کے لوگوں میں اتنی تکالیف اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد کم از کم عدالتی نظام کی بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔



















