’وزیرستان میں فوری آپریشن کی ضرورت‘

وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ممکنہ فوجی کارروائی کے پیش نظر پاکستان میں حالیہ دنوں میں خوفناک حملوں اضافہ ہوا ہے جن میں راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو بھی شامل ہے۔ بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ فوج کو کس طریقے سے ان شدت پسندوں کو قابو میں کرنا چاہیے۔

خدیجہ علی، قانون کی طلبہ، راولپنڈی

میں راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب رہائش پذیر ہوں جہاں سنیچر کو حملہ ہوا تھا۔ میڈیا میں اس حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ یہ ایک بڑا حملہ تھا اور اس میں یرغمالی بھی بنائے گئے تھے لیکن مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ پاک فوج نے بڑی مہارت سے صورتحال پر قابو پایا۔

جب اس قسم کے واقعات میں تیزی آتی ہے تو یہ آپ کے لیے کوئی عام بات بن جاتی ہے اور آپ اس سے پریشان نہیں ہوتے بلکہ اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

ان واقعات کے مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک ویڈیو آئی تھی جس میں ایک لڑکی کو طالبان کوڑے مار رہے تھے۔ اس ویڈیو نے طالبان کے بارے میں عوامی رائے کو تبدیل کردیا تھا۔اسی طرح یہ خودکش حملے بھی طالبان کے بارے میں عوامی رائے کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ میں یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ نوے فیصد پاکستانی طالبان کے خلاف ہیں۔ پانچ سال قبل اگر پوچھا جاتا تو ملا جلا ردِ عمل ملتا۔ یہ طالبان مخالف رائے ان کو شکست دینے کے لیے بہت اہم ہے۔

اس وقت فوجی آپریشن ہی ایک آپشن نظر آتی ہے۔ لیکن جس بات کا مجھے ڈر ہے وہ یہ کہ اس کارروائی میں بےگناہ لوگ مارے جائیں گے۔ قلیل مدتی حل یہ ہے کہ طالبان کے علاقوں میں گھس کر ان کا صفایا کیا جائے لیکن طویل المدتی حکمت عملی تعلیم کا فروغ ہے۔ شدت پسندی صرف بندوق اورگولیاں نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچ کا نام ہے جس کو تعلیم ہی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو تعلیم کے فروغ پر زور دینا ہوگا تاکہ لوگ ان منافق ملاؤں کے پیروکار نہ بنیں۔

پشاور کے ایک ڈاکٹر

پچھلے ہفتے پشاور میں ہونے والا بم دھماکہ اس ہسپتال کے سامنے ہوا جہاں میں کام کرتا ہوں۔ اس سال پشاور میں کئی دھماکے ہو چکے ہیں اور لوگ اب خوفزدہ ہیں۔ میں جب بھی مارکیٹ جاتا ہوں مجھے اپنی جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ ہماری زندگی کافی مشکل ہوگئی ہے۔ ہم صرف امید ہی کرسکتے ہیں کہ حالات بہتر ہو جائیں اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔

فوج نے طالبان کو سوات میں تو شکست دے دی لیکن دیگر علاقوں میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے جیسے کہ جنوبی وزیرستان۔

میں کرم ایجنسی سے تعلق رکھتا ہوں اور یہ علاقہ شدت پسندی سے کافی متاثر ہوا ہے۔ پچھلے تین سال میں میرے قبیلے کے ایک ہزار افراد طالبان کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہم ان کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں لیکن انہوں نے ہمارے علاقے کو ملک سے کاٹ دیا ہے۔ لوگ وہاں محصور ہیں۔ خود میں اپنے گھر نہیں جا سکتا کیونکہ تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ہم طالبان کے خلاف آپریشن کے منتظر ہیں تاکہ ہم اپنے گھر جا سکیں۔

میری نظر میں یہ حالیہ حملے شدت پسندوں کی مایوسی کی وجہ سے ہیں۔ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا ردِ عمل ایسا ہی ہوتا ہے جب بھی ان کوخطرہ لاحق ہو۔ جب سوات میں بھی فوجی کارروائی شروع ہوئی تھی تو پشاور میں چند دھماکے ہوئے تھے۔

رفیق وقاص، نیوز کاسٹر، لاہور

میں ایک ٹی وی چینل پر نیوز کاسٹر ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ میں خبر پڑھتے وقت کسی قسم کے جذبات چہرے پر یا آواز میں نہ لاؤں۔ لیکن شانگلہ میں ہونے والے خودکش حملے میں مجھے محسوس ہوا کہ میری آواز میں افسردگی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حملہ تیرہ سالہ لڑکے نے کیا تھا۔یہ نہایت فکر کی بات ہے کہ بچوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہے۔

فوج کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک دشوار مرحلہ ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سوات میں طالبان کی شکست کے بعد ان کا زور ٹوٹ گیا ہے لیکن جی ایچ کیو کے حملے نے یہ بات ثابت کردی کہ بیت اللہ کی موت کے بعد بھی طالبان منظم اور یکجا ہیں۔

فوج کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہو سکے وزیرستان میں کارروائی کا آغاز کرے اور ویسے بھی وزیرستان میں فوجی کارروائی کافی عرصے سے التواء کا شکار تھی اور اب مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔

حسن زمان، گرافک ڈیزائنر، اسلام آباد

طالبان یہ پیغام پہنچانا چاہ رہے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ جنوبی وزیرستان پر چڑھائی کی جائے۔ میرے خیال میں پاکستان اس علاقے پر کارروائی کرنے کا حامل بھی نہیں ہے کیونکہ اس کے رد عمل میں مزید دھماکے اور حملے ہوں گے۔ اور ایسے واقعات سے پاکستان میں کاروبار کے لیے صورتحال سازگار نہیں رہے گی۔ سنہ دو ہزار سات سے اب تک ساٹھ فیصد کاروبار بند ہوچکا ہے اور لوگوں کو روزی کمانے میں مشکل ہو رہی ہے۔

ایڈورٹائزنگ کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اسلام آباد میں لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔ جب آپ ایسی جگہ پر رہتے ہیں جہاں ایسے واقعات ہو رہے ہوں تو آپ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے دو بار سوچتے ہیں۔