لاہور: خوف کے سائے میں

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
جمعرات کو ہونے والے حملوں نے لاہور شہر میں معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا اور شہر کی روایتی گہما گہمی ماند پڑگئی جبکہ سکولوں میں چھٹی کردی گئی ہے۔
اگرچہ ایف آئی اے کی عمارت کے قریب مشہور شاہراہ مال روڈ پر دکانیں بدستور کھلی رہیں تاہم وہ رش دیکھنے میں نظر نہیں آیا جو معمول میں ان مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔ مال روڈ کے ایک دکاندار عمر کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی کاروبار نہیں ہے اور اب دہشت گردی کے واقعات سے ان کا کاروبار مزید متاثرہو رہا ہے۔
مال روڈ پر پر ایک پیٹرول پمپ کے ملازم نے بتایا کہ وہ روزانہ رات نو بجے تک تین ہزار لیٹر پیٹرول فروخت کرتے ہیں لیکن جمعرات کو رات نو بجے تک صرف آٹھ سو لیٹر پیٹرول ہی فروخت ہوا ہے۔
رکشا ڈرائیور اورنگ زیب خان کا کہنا ہے کہ انہیں پورے دن میں صرف دو سواریاں ملی ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ شہر کی مختلف سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور لوگ خوف وہراس کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکلے۔
شہر کے مشہور بازار پرانی انارکلی کے ہیر ڈریسر رشید انور نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات سے ان کا کام متاثر ہوا ہے اور صبح سے شام تک صرف دو گاہکوں نے ان کی دکان کا رخ کیا، جبکہ پرانی انارکلی چوک میں ٹریفک کا رش بھی معمول سے خاصا کم رہا۔
شہر میں کھانے کے مشہور ہوٹلوں میں روایتی بھیڑ نہیں تھی اور کئی ایسے ریسٹورنٹ جہاں عام طور پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی وہاں آسانی سے جگہ ملی رہی تھی۔
لاہور میں حملوں کے بعد مختلف مقامات پر پولیس نے ناکے لگائے جبکہ سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں بھی گشت کرتی دیکھی گئیں۔















