’کشمیر میں سیاسی مداخلت کا الزام‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنماء چوہدری نثار علی خان نے وفاقی حکومت پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب میں مداخلت اور اراکین کی وفاداریاں خریدنے کا الزام عائد کیا ہے۔
منگل کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اسّی کی دہائی والی صورتحال پیدا نہ کرے ورنہ حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
انہوں نے صدر آصف علی زردای کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے ایوانوں میں ایک نیا رنجیت سنگھ پیدا ہوگیا ہے جو اپنی خواہشات کے مطابق سب کچھ کرنا چاہتا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف تو ہٹ گئے لیکن ان کی روح اب بھی اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے وہاں پاکستان کی مرکزی حکومت مداخلت کر کے بھارت کو اپنے زیر انتظام کشمیر میں ایسا کرنے کا راستہ دکھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب میں شفافیت نظر نہ آئی تو وہ قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک مسائل میں گِھرا ہوا ہے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت بدقسمتی سے انہیں حل کرنے کی اہل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انچاس اراکین کے ایوان میں ایک نشست خالی ہے اور موجودہ اڑتالیس اراکین میں سے مسلم کانفرنس کے امیدوار راجہ فاروق حیدر کا دعویٰ ہے کہ انہیں ستائیس اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ مرکزی حکومت کے حمایت یافتہ مستعفی ہونے والے وزیراعظم سردار یعقوب کے حامیوں کی تعداد اکیس ہے۔
چوہدری نثار علی خان نے جان کیری کی میاں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کیری لوگر بل کے متعلق خدشات ختم نہیں ہوئے اور ان کے اعتراضات برقرار ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ امداد رکوا کر حکومت کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔
قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او’ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس کی پارلیمان سے منظوری کی مخالفت کریں گے اور اس سلسلے میں وہ دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمان نے اگر ’این آر او‘ کو منظور کیا تو یہ اس پر ایک داغ ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















