پشاور: سکیورٹی خدشات، دفعہ 144 نافذ

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں سکیورٹی کی صورتحال مزید بہتر بنانے کےلیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ضلع بھر میں لائسنس یافتہ اسلحے کی نمائش اور کالے شیشوں والی گاڑیوں پر پابندی ہوگی۔
پشارو کے ضلعی رابط افسر صاحبزادہ محمد انیس نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ یہ اقدام شہر میں بڑھتے ہوئے بم دھماکوں کے واقعات کی روک تھام اور پولیس کی معاونت کرنے کےلیے لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکم نامے کے مطابق شہر میں لائسنس یافتہ اسلحے کی نمائش اور کالے شیشوں والی گاڑیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ان کے مطابق ابھی یہ حکم نامہ صرف ایک مہینے کےلیے نافذ جاری کیا گیا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
دریں اثناء پشارو کے علاقے بالامانڑی میں پولیس کےمطابق ایک سرکاری سکول کے قریب نصب دو ریموٹ کنٹرول بم ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔بالامانڑی تھانہ کے ایس ایچ او عتیق شاہ نے بتایا کہ نامعلوم افراد کی طرف سے رکھے گئے دونوں بم ایک کھلے میدان میں سکول کے قریب نصب کیےگئے تھے تاہم پولیس کو بروقت اطلاع ملنے پر دونوں بم ناکارہ بنا دیے گئے۔
ادھر پشاور شہر میں یکے بعد دیگرے ہونے والے بم اور خودکش دھماکوں کے بعد شہر میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی سخت سے سخت کی جا رہی ہے۔شہر کے تمام اہم مقامات اور مصروف علاقوں میں پولیس نے چیک پوسٹیں قائم کی ہوئی ہیں جہاں گاڑیوں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے۔ شہر کا شاہد ہی کوئی ایسا مصروف علاقہ ہوگا جہاں پولیس اہلکار تعینات نہ ہوں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے واقعات کے باعث شہر میں بدستور خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے جس کی وجہ سے بازاروں اور مصروف علاقوں میں عوام کا آنا جانا کم ہوگیا ہے۔اس خوف اور بے یقینی کی صورتحال کے باعث شہر میں بعض نجی تعلیمی ادارے بند ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سکول بد ستور کھولے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ پشاور شہر گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے دھماکوں کی زد میں رہا ہے اور اس دوران ہونے والے چار دھماکوں میں کم سے ستر سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔















