تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند

- مصنف, ذیشان حیدر، عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
- وقت اشاعت
پاکستان کے چاروں صوبوں میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعض جامعات اور تعلیمی ادارے اتوار تک بند رہیں گے تاہم پنجاب حکومت نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر صوبے کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد فوج کے زیرِ اہتمام چلنے والے تعلیمی ادارے تو پہلے ہی بند کر دیے گیے تھے جبکہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی میں بم دھماکے کے بعد صوبہ سندھ کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق تمام سرکاری سکول اور کالج اتوار تک بند رہیں گے جبکہ یونیورسٹیاں صرف بدھ کو بند رہیں گی۔ آرمی پبلک سکول، رینجرز اور فیڈرل بورڈ کے زیر انتظام چلنے والے سکول پہلے ایک ہفتے کے لیے بند کردیے گئے تھے۔
پنجاب میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ منگل کی شب ایوان وزیراعلیْ میں ہونے والے اعلیْ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں صوبے امن وامان کی صورت حال کا جائزہ لیاگیا۔
اس سے قبل کراچی شہر سے بھی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی خبریں آئیں جبکہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی احتیاط کے پیشِ نظر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں منگل کو جلاس کے بعد وزیر اعلیْ پنجاب کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے بی بی سی کو بتایاکہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کو بچوں کے والدین کی تشویش کے پیش نظر بند کیا گیا ۔ان کے بقول اجلاس میں دہشت گردی کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائرہ لینے کے بعد تمام تعلیمی اداروں کے سربراہوں کا اجلاس بلایا گیا ہے جس میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں غور کیا جائے گا

ذوالفقار کھوسہ نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کی طرف سے معیاری حفاظتی انتظامات لینے کے بعد ان اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے لیکن جب تک حفاظتی نہیں لیے جاتے ہیں اس وقت تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔وزیراعلیْ کے مشیر کے بقول ننانوے فیصد تعلیمی اداروں میں معیاری حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔
دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی صدارت میں بدھ کے روز ایک اجلاس بھی بلایا گیا ہے جس میں اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے امور پر بات چیت کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں نجی تعلیمی اسکولوں نے کسی بھی قسم کے نا خوشگوار واقع سے بچنے کے لیے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے طالبعلموں میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں۔جن میں حالیہ ملکی صورتحال کے مدِ نظر بچوں کے والدین سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول انتظامیہ ملکی حالات کے پیش نظر اور اپنے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین سکول گیٹ پر کھڑے گارڈ سے تعاون کریں، سکول میں داخل ہونے پر اصرار نہ کریں اور اساتذہ سے فون پر ہی رابطہ رکھیں۔
ادھر پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے دہشت گردی کے خلاف اور پاک فوج کے ساتھ یک جہتی کے لیے ایک ریلی بھی نکالی۔یہ اپنی نوعیت کی پہلی ریلی ہے جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر اساتذہ نے بھی شرکت کی جبکہ ریلی میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ریلی میں شامل اساتذہ اور طلبہ نے قومی پرچم کے علاوہ ایسے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستان زندہ باد کی عبارتیں درج تھیں۔طلبہ کے شرکاء نعرے لگتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے ہوتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ریسرچ کے سامنے پہنچی جہاں مقررین نے خطاب کیا۔
اس موقع پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے خطاب میں کہا کہ طلبہ ملک کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔وائس چانسلر سمیت دیگر مقررین کے خطاب کے بعد طلبہ پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔



















